ریاض (پاک ٹوڈے): سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوگئے۔ سعودی حکام کے مطابق ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر نامعلوم پروجیکٹائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امدادی ٹیموں نے کارروائیاں کیں۔
سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا۔ حکام واقعے میں ہونے والے نقصان اور ایئرپورٹ کی تنصیبات کی سلامتی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یمن کے حوثی باغیوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت ڈرونز کے ذریعے چار کارروائیاں کی گئیں۔ حوثیوں کے مطابق ریاض اور دمام ایئرپورٹس کے علاوہ سعودی تیل کمپنی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سعودی حکام نے دمام ایئرپورٹ پر حملے کی بھی تصدیق کی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہفتے کے روز ہونے والے حملے کے بعد بند تھا۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ بھارتی سفارت خانے نے بھی تصدیق کی کہ اس حملے میں زخمی ہونے والا ایک بھارتی شہری اتوار کو دم توڑ گیا۔
حوثی باغیوں نے مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزید سنگین کارروائیاں ابھی باقی ہیں۔ تازہ حملے کے مکمل نقصانات اور دیگر تفصیلات سے متعلق سعودی حکام کی جانب سے تصدیق کا عمل جاری ہے۔