پشاور (پاک ٹوڈے): خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کے مختلف اضلاع میں ارکانِ اسمبلی، صوبائی وزراء، مشیروں اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی رہائش گاہوں اور حجروں پر پولیس کی جانب سے چھاپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں کم از کم 15 ارکانِ اسمبلی اور پارٹی رہنما نشانے پر آئے، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی اور رکن اسمبلی مشتاق غنی کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ علالت کے باعث گھر پر موجود تھے، جہاں انہیں نظر بند کر دیا گیا۔
کوہاٹ میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا، جبکہ رکن صوبائی اسمبلی داؤد آفریدی کے گھر پر بھی پولیس پہنچی۔ تاہم، داؤد آفریدی گھر پر موجود نہیں تھے۔
صوبائی وزیر مال طارق آریانی کی رہائش گاہ پر بھی کارروائی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق وہ گھر پر موجود نہیں تھے، تاہم ان کے بیٹے ریان آریانی کو گرفتار کر لیا گیا۔ مردان میں سابق صوبائی وزیر ظاہر شاہ طورو کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا، لیکن وہ بھی وہاں موجود نہیں تھے۔ ملاکنڈ میں مشیر جنگلات پیر مصور غازی کے گھر پر پولیس نے کارروائی کی۔
چارسدہ میں پی ٹی آئی کے ضلعی صدر اور رکن صوبائی اسمبلی ارشد خان عمرزئی کے حجرے پر چھاپے کے دوران ان کے تین ذاتی گن مینوں اور حجرے میں موجود دو دیگر افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
سوات میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی (ڈیڈک) کے چیئرمین اور رکن اسمبلی اختر خان ایڈووکیٹ، رکن اسمبلی میاں شرافت کے گھر اور حجرے، جبکہ سابق رکن اسمبلی مومنہ باسط کی رہائش گاہ پر بھی چھاپے مارے گئے۔
شانگلہ میں رکن صوبائی اسمبلی عبدالمنعم خان، ایبٹ آباد میں رکن اسمبلی رجب علی عباسی اور رکن قومی اسمبلی و پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکرٹری محمد علی اصغر کی رہائش گاہوں پر بھی پولیس کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔
بٹگرام میں مشیر کھیل تاج محمد ترند کے گھر پر چھاپے کے دوران ان کے بھائی نیاز محمد خان ترند کو گرفتار کیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ دیر میں رکن اسمبلی عبید الرحمٰن کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا۔
صوبے میں ان کارروائیوں کے بعد سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، چھاپوں کی وجوہات، حراست میں لیے گئے تمام افراد کی موجودہ صورتحال اور متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔