پشاور (پاک ٹوڈے): وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاک فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فوج کی تعیناتی کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور سرکاری تنصیبات کی حفاظت کرنا ہے۔ اس سلسلے میں پاک فوج صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
وفاقی حکومت کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق خیبرپختونخوا میں تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین گورنر خیبرپختونخوا اور جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے درمیان مشاورت سے کیا جائے گا۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی دستوں کی تعیناتی صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور سول انتظامیہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔ فوج شہریوں کے تحفظ اور سرکاری املاک کی حفاظت کے لیے انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔
وفاقی حکومت کے مطابق فوج کی تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن گزٹ آف پاکستان، پارٹ ٹو میں شائع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حکم نامے میں فوجی دستوں کی تعداد، تعیناتی کے مخصوص مقامات اور عملی تعیناتی کے شیڈول کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔