خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ اور فوجی اقدامات مسترد کرتے ہیں، منظور پشتین

پشاور (پاک ٹوڈے): پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبے کو عسکریانے کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔

منظور پشتین نے اپنے فیس بک پیج پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج نے خیبرپختونخوا کو طویل عرصے سے اپنی پالیسیوں کے تجربات کے لیے استعمال کیا اور صوبے کے عوام پر مختلف سخت پالیسیاں آزمائی گئیں۔

انہوں نے پاکستان میں جمہوریت اور اقتدار کی تقسیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں پنجابی سیاست دان اور آمریت میں پنجابی جرنیل حکمرانی کرتے ہیں، جبکہ ان کے بقول دونوں پشتونوں کے مخالف ہیں۔

منظور پشتین نے خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

Related posts

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد 15 ارکانِ اسمبلی اور رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے

آزاد کشمیر: ہجیرہ میں بارودی سرنگ کا دھماکا، چار نوجوان جان سے گئے

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کابینہ کی گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت، گرفتار قیادت کی رہائی کا مطالبہ