حکومت سے مذاکرات ناکام: گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل، اشیائے خوردونوش نایاب ہونے لگیں

 

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی و صوبائی انتظامیہ اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مطالبات پر پیدا ہونے والا ڈیڈلاک ختم نہ ہو سکا، جس کے بعد ملک گیر ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر نبیل محمود طارق نے واضح کیا ہے کہ حکومت ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل اور ٹول ٹیکس کی شرح ایک سال تک برقرار رکھنے پر آمادہ نہیں، جس کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے اور ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔

ترسیل معطل ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری اشیا کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں مرغی اور دیگر اشیائے خورونوش کے دام بڑھ گئے ہیں، جبکہ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہڑتال طویل ہونے سے سپلائی چین کا بحران مزید شدید ہو سکتا ہے

Related posts

وفاقی وزراء مسلسل دہشت گردی کو خیبرپختونخوا حکومت سے جوڑ رہے ہیں، شفیع جان

3 ہزار سے زائد روکی گئی گاڑیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ، گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

ملاگوری واقعہ: ڈی پی او خیبر کو پولیس ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم، 7 روز میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت