پشاور (پاک ٹوڈے): وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزراء کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں اور وہ مسلسل دہشت گردی کو خیبرپختونخوا حکومت سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی وزراء کے پاس ایک ہی رٹا رٹایا اسکرپٹ ہے۔
شفیع جان نے اختیار ولی کو مسترد شدہ شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پولیس سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزراء نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی اور پولیس کو کمزور دکھانے کی کوشش کی، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف منفی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گورنر راج کے لیے امن و امان کی صورتحال کو جواز بنایا جا رہا ہے تو پہلے بلوچستان میں گورنر راج لگایا جائے، جہاں ان کے بقول بلوچستان کا بڑا حصہ نو گو ایریا بن چکا ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا آغاز 9/11 کے بعد ایک ٹیلی فون کال سے ہوا، جبکہ عمران خان نے قبائلی اضلاع میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی۔ ان کے مطابق 2013 میں اقتدار میں آکر خیبرپختونخوا کو امن اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا گیا اور عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ملک میں امن کا دور آیا، تاہم انہیں ہٹانے کے بعد ملک کو دوبارہ دہشت گردی کی طرف دھکیلا گیا۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ عطاء تارڑ خیبرپختونخوا آکر گھومتے ہیں، انہیں بلوچستان کا بھی دورہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پالیسی سازی کے لیے سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، تاہم وفاقی حکومت کی نیت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ تبدیل کرنا خیبرپختونخوا حکومت کی سیاسی حکمت عملی تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت عوام اور اداروں کو آمنے سامنے لانا چاہتی ہے۔ شفیع جان نے وفاقی حکومت سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور پاکستان ان کے ایمان کا حصہ ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پولیس کے لیے 57 جدید آلات کی خریداری کے لیے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور دیگر متعلقہ وفاقی اداروں کو 7.4 ارب روپے ادا کیے گئے، تاہم اب تک پولیس کو صرف 13 آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو آلات کی فراہمی میں تاخیر کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
شفیع جان کے مطابق خیبرپختونخوا میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے 35 ارب روپے کا پیکیج دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم کے بعد پولیس کو سب سے زیادہ بجٹ دیا گیا ہے اور صوبائی بجٹ میں امن و امان اور پولیس کو نمایاں ترجیح دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف ملک کی فیڈریشن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں اور صرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور خیبرپختونخوا حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شفیع جان کے مطابق خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اس کے باوجود صوبے کو طعنے دیے جا رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان دہشت گردی کے انڈیکس میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے لیے کئی مرتبہ خطوط لکھے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔