اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان بھر میں ہفتہ بھر جاری رہنے والی ذیلی قومی پولیو مہم کے دوران 2 کروڑ 82 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلائی گئی، جبکہ حکام نے رواں سال پولیو کیسز میں 7 گنا کمی کی توقع ظاہر کی ہے۔
یہ مہم 21 سے 27 ستمبر تک افغانستان میں بھی بیک وقت جاری رہی۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے 112 اضلاع میں 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد پولیو ورکرز نے مہم میں حصہ لیا۔
رواں سال اب تک پاکستان میں پولیو کے 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں 3 خیبرپختونخوا اور ایک سندھ سے ہے۔ یہ تعداد 2025 میں رپورٹ ہونے والے 31 اور 2024 کے 74 کیسز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
حکام کے مطابق پولیو کیسز میں کمی بہتر مہم کی کارکردگی اور سردی کے موسم کے باعث بھی ہوئی ہے، کیونکہ سرد موسم میں وائرس کی منتقلی کی شرح کم ہو جاتی ہے۔
پاکستان پولیو پروگرام کے سربراہ انوار الحق نے کہا کہ رواں کیلنڈر سال کارکردگی کے لحاظ سے بہتر ثابت ہوا ہے، جبکہ کم منتقلی والے موسم میں داخل ہونے کے بعد پولیو کیسز کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں۔
تاہم شمال مغربی علاقوں میں سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔ خیبرپختونخوا کا ضلع بنوں، جہاں رواں سال پولیو کے 3 کیسز سامنے آئے، اب بھی ایک اہم کمزور علاقہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک پولیو ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بنوں میں سیکیورٹی کے شدید مسائل ہیں، جہاں نہ صرف پولیو مہمات روک دی جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات پولیو ٹیموں کے کارکنوں کو اغوا بھی کیا جاتا ہے۔ ماہر کے مطابق بنوں میں سیکیورٹی مسائل کا حل ضروری ہے کیونکہ یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے پولیو وائرس دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔