حوثی حملوں کا بھرپور جواب: یمنی فوج نے تعز کے اہم محاذوں پر پیش قدمی کا دعویٰ کر دیا

ریاض (پاک ٹوڈے): ​یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی فوجی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری افواج نے حوثی جنگجوؤں کے خلاف کامیاب جوابی کارروائی کرتے ہوئے تعز شہر کے مغرب اور جنوب کے متعدد اہم محاذوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

​یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘سبا’ سے گفتگو کرتے ہوئے تعز کی فوج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالعزیز المجیدی نے بتایا کہ مسلح افواج نے مقامی قبائل کی معاونت سے حوثی جنگجوؤں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد یہ پیش قدمی کی۔ ان کے مطابق اس پیش قدمی سے تعز کا محاصرہ مزید سخت کرنے کی حوثی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے، جبکہ لڑائی کے دوران حوثیوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

​واضح رہے کہ تعز یمن کا تیسرا بڑا شہر ہے، جو 2015 سے یمنی حکومت اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان محاذ جنگ میں تقسیم چلا آ رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران اس خطے میں لڑائی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضے کے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔

​تجزیہ کاروں کے مطابق، تعز کا پہاڑی علاقہ سٹریٹجک لحاظ سے عالمی بحری گزرگاہ ‘باب المندب’ کے انتہائی قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی سے بحیرہ احمر میں عالمی بحری آمدورفت کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

​یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب خطے میں عسکری تحرک تیز ہو چکا ہے۔ رواں ماہ کے دوران حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں، جن میں مکہ مکرمہ کی سمت داغے گئے ایک میزائل کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔ تاہم، حوثی گروپ نے مقدس شہر کو نشانہ بنانے کے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

Related posts

ماسکو پر یوکرین کا اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ، 4 افراد ہلاک، تیل کی ریفائنری شدید متاثر

جرمنی: پولیس اسٹیشن پہنچ کر اہلیہ کے قتل کا اعتراف، 40 سالہ افغان شہری گرفتار

یورپ سے جنگ نہیں چاہتے لیکن مجبور کیا گیا تو بھرپور جواب دیں گے: صدر پیوٹن