بیجنگ (پاک ٹوڈے): چین نے خلا میں زندگی کے قیام اور طویل مدتی خلائی مشنز کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر پودوں کی 14 مختلف اقسام کی کامیابی سے کاشت مکمل کر لی ہے۔ یہ پیش رفت خلا میں بڑے پیمانے پر فصلوں کی پیداوار اور مستقبل میں خوراک کے حوالے سے خود کفالت کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
اس شاندار کامیابی کی تفصیلات شمالی چین کی تیانجن میونسپلٹی میں منعقدہ "ایرو اسپیس میڈیکل انجینئرنگ کانفرنس” کے دوران سامنے آئیں۔ کانفرنس کے دوران شینزہو 21 مشن کے خلاباز ژانگ ہونگ ژانگ نے خلائی اسٹیشن پر قائم "خلائی باغ” کی خوبصورت تصاویر اور ویڈیو کلپس جاری کیے۔ ان مناظر میں گاجر، کروٹا، اور مختلف اقسام کے ساگ اور سبزیاں پھلتی پھولتی نظر آئیں۔
واضح رہے کہ چین کے طویل مدتی اور مسلسل خلائی مشنز کے دور کا آغاز اکتوبر 2021 میں ہوا تھا، جس کے بعد سے چینی سائنسدان اور خلاباز خلا میں زندگی کو ممکن بنانے اور مختلف سائنسی تجربات میں مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ خلائی اسٹیشن پر کھیتی باڑی کی یہ کامیابی مستقبل کے مریخ اور چاند کے طویل ترین مشنز کے لیے بے حد معاون ثابت ہوگی۔