کرپشن اور غداری کے سنگین الزامات: چین کے دو اعلیٰ ترین فوجی جنرلز کمیونسٹ پارٹی سے فارغ

چین (پاک ٹوڈے): چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی نے کرپشن اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات پر ملک کے دو سینیئر ترین فوجی افسران کو پارٹی سے بے دخل کر دیا ہے۔

​غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جن دو اعلیٰ حکام کو برطرف کیا گیا ہے، ان میں چین کے سینیئر ترین جنرل اور سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) کے سابق وائس چیئرمین ژانگ یوشیا اور سینیئر فوجی افسر لیو ژینلی شامل ہیں۔ یہ اقدام ان کے خلاف شروع کی جانے والی تحقیقات کے اختتام پر اٹھایا گیا ہے۔

​چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘شنہوا’ کے مطابق بیجنگ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران دونوں افراد کی پارٹی رکنیت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دونوں سابق فوجی عہدیداروں نے "پارٹی سے غداری کی اور ریڈ لائنز عبور کیں”۔ ان پر گروہ بندی، عہدے کے ناجائز استعمال، پسند نہ پسند کی بنیاد پر ترقیاں دینے اور "غیر معمولی طور پر بھاری رقم” بطور رشوت وصول کرنے کے ثابت شدہ الزامات ہیں۔

​سرکاری حکام کے مطابق دونوں برطرف افسران کے مقدمات اب حتمی قانونی کارروائی اور جائزے کے لیے فوجی عدالتوں اور متعلقہ قانونی اداروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں، جبکہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی آئندہ اجلاس میں اس فیصلے کی باضابطہ توثیق کرے گی۔

​واضح رہے کہ چینی وزارتِ دفاع نے رواں سال جنوری میں دونوں افسران کے خلاف قانونی اور ڈسپلنری خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ ماہ انہیں ریاستی سینٹرل ملٹری کمیشن کے عہدوں سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔

Related posts

کنڑ اور پکتیکا میں پاکستانی ائیر فورس کی بمباری، 3 شہری جاں بحق اور 4 زخمی

ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کی اجازت

حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں، افغان وزارت خارجہ