حوثیوں کے حملوں میں شدت، سعودی عرب کی مدد کے لیے پاکستان اور ترکیہ کا ہنگامی اجلاس

مکہ (پاک ٹوڈے): یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد کریں گے، جس میں سعودی عرب کی مدد کے مختلف طریقوں پر غور کیا جائے گا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی عرب میں مختلف اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کے 6 بیلسٹک میزائل راستے میں ہی روک دیے گئے۔

سعودی عرب نے اس سے قبل مکہ، جدہ اور بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی الرٹس جاری کیے تھے۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق جاری کشیدگی کے دوران سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ملاقات کی۔ اجلاس میں مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی گئی۔

بیان کے مطابق تینوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حوثیوں کے حالیہ اقدامات سے ایران کو الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا کو ثالثوں کے ذریعے ایک تجویز پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے تحت ایران کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی ہے۔ ان کے مطابق تجویز میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر 7 روز کے اندر دشمنی ختم کرنے، امریکی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد اثاثے جاری کرنے اور تیل کی پابندیاں ختم کرنے کی شرائط شامل ہیں۔

عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز آخری روز دوبارہ کھولی جائے گی، جس کے بعد امریکا کے ساتھ دیگر معاملات، جن میں ایران کا جوہری مسئلہ بھی شامل ہے، پر مذاکرات شروع کیے جاسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی نے توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے۔ حوثیوں کی کارروائیوں سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں بھی ٹینکروں کی نقل و حرکت محدود ہونے سے عالمی تیل کی ترسیل پر دباؤ بڑھا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے قبل دنیا کی مجموعی تیل برآمدات کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا، جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی تیل برآمدات بھی خطے میں جاری حملوں سے متاثر ہوئی ہیں۔

ادھر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ بڑھانے کے بعد متحدہ عرب امارات اور عمان سمیت بعض پڑوسی ممالک نے ایرانی ایئرلائنز کی پروازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال سے ایران کی علاقائی اور معاشی تنہائی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

Related posts

عدن بندرگاہ پر 14 پاکستانی بحری اہلکار ایک ماہ سے زائد عرصے سے پھنس گئے

ترکمانستان نے ایرانی طیارے کو فضائی حدود میں داخلے سے روک دیا

پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر احتجاج، افغان وزارت خارجہ