حوثیوں کا آرامکو ہیڈکوارٹر پر حملہ، تیل کی قیمتیں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حوثیوں کے حملے اور ایران کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی نئی حکمت عملی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے، جس سے توانائی کی عالمی سپلائی اور خطے میں بحری تجارت سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 37 سینٹ، یعنی 0.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 106.06 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 95 سینٹ، یعنی 1.01 فیصد اضافے کے بعد 95.09 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلن کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملوں اور سعودی عرب و ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان حملوں کے تبادلے نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو تقویت دی ہے۔

ایرانی حکام نے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے اختیار کی گئی نئی حکمت عملی کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ تاہم ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران نے تقریباً 10 روز قبل حملوں کے لیے مختلف طریقہ کار اپنانا شروع کیا تھا، جس سے خطے میں بحری سلامتی اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں ایران کے علاوہ خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل میں نمایاں بہتری آئی اور یہ جنگ سے قبل کی سطح کے 81 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔ اس بحالی میں سعودی عرب کی تیل برآمدات میں اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔

تاہم امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل کی برآمدات صفر پر آنے کی اطلاعات ہیں، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related posts

وزیراعظم شہباز شریف کی محمود اچکزئی سے ملاقات، سیاسی و آئینی امور پر مذاکرات کی دعوت

افغانستان: ننگرہار میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 2 افراد جاں بحق، 10 زخمی

مظفرگڑھ میں شوہر کی ہلاکت، زہریلا مشروب پلانے کا الزام، بیوی زیر حراست