تجاوزات کے خلاف آپریشن یا نظام کی ناکامی کا اعتراف؟

آصف نثار غیاثی

پاکستان میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف حکومتوں کے ادوار میں ایسے متعدد آپریشنز دیکھنے میں آئے ہیں۔ کبھی اسلام آباد کی سڑکوں اور بازاروں سے تجاوزات ختم کرنے کی مہم شروع ہوتی ہے تو کبھی خیبرپختونخوا کے شہروں، قصبوں اور سیاحتی علاقوں میں سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے۔ آج کل پشاور سمیت پورے خیبرپختونخوا میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بظاہر مقصد شہر کو صاف ستھرا بنانا، سڑکوں کو کشادہ کرنا، ٹریفک کی روانی بہتر بنانا اور سرکاری اراضی کو واگزار کرانا ہے، لیکن اس پورے معاملے میں کچھ بنیادی سوالات ایسے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

میں نے اپنی زندگی میں تجاوزات کے خلاف کئی آپریشنز دیکھے ہیں۔ جب پاکستان تحریک انصاف پہلی مرتبہ خیبرپختونخوا میں اقتدار میں آئی تو صوبے کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ ہمارے علاقے گلیات میں بھی آپریشن ہوا، جہاں دکانوں، تعمیرات اور دیگر تجاوزات کو ہٹایا گیا۔ اسی طرح پی ٹی آئی نے وفاق میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اسلام آباد میں بھی تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا تھا۔ اس وقت بھی دعویٰ یہی تھا کہ شہر کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا اور قانون کی عملداری یقینی بنائی جائے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر دس سال پہلے اتنے بڑے پیمانے پر آپریشن کیے گئے تھے اور تجاوزات ختم کر دی گئی تھیں تو آج دوبارہ وہی صورت حال کیسے پیدا ہوگئی؟ کیا دس سال کے مختصر عرصے میں دوبارہ اتنی تجاوزات قائم ہوگئیں کہ پشاور کی گلیوں، بازاروں اور مختلف شاہراہوں کو کھودنے اور تعمیرات گرانے کی ضرورت پیش آگئی؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان دس برسوں کے دوران متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ انتظامیہ، بلدیاتی ادارے، محکمہ مال اور دیگر ذمہ دار محکمے اپنی ذمہ داریاں کیوں ادا نہیں کر سکے؟

یہی صورت حال صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں۔ اسلام آباد میں بھی مختلف علاقوں میں تجاوزات یا مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ غوری ٹاؤن فیز سیون سمیت متعدد آبادیوں کو نوٹسز جاری ہونے اور بعض مقامات پر تعمیرات گرائے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ یہاں بھی بنیادی سوال وہی ہے کہ اگر یہ تعمیرات غیر قانونی تھیں تو جب ان کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، جب پلاٹ فروخت ہو رہے تھے، جب عمارتیں تعمیر ہو رہی تھیں اور جب ان آبادیوں میں لوگ رہائش اختیار کر رہے تھے، تب متعلقہ ادارے کیا کر رہے تھے؟

ہماری انتظامیہ کا عمومی رویہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ جب مسئلہ شدت اختیار کر جائے تو کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔ مشینری پہنچتی ہے، دکانیں گرائی جاتی ہیں، دیواریں توڑی جاتی ہیں، سڑکیں کھودی جاتی ہیں اور تصاویر و ویڈیوز کے ذریعے کارروائی کی تشہیر ہوتی ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کم ہی ہوتی ہے کہ آخر یہ تجاوزات قائم کس نے ہونے دیں؟ کس افسر نے آنکھیں بند رکھیں؟ کس محکمے نے بروقت کارروائی نہیں کی؟ کس نے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی؟ اور اگر کہیں سرکاری اہلکاروں یا بااثر افراد کی ملی بھگت شامل تھی تو ان کا احتساب کب ہوگا؟

یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کنویں میں گرے ہوئے کتے کو نکالنے کے بجائے مسلسل کنویں سے پانی نکالتا رہے۔ جب تک مسئلے کی اصل وجہ ختم نہیں ہوگی، اس وقت تک ایسے آپریشنز کا کوئی مستقل نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ آج ایک حکومت تجاوزات ختم کرے گی، کل کوئی دوسری حکومت دوبارہ آپریشن کرے گی اور اس کے بعد آنے والی حکومت بھی اسی عمل کو اپنا کارنامہ قرار دے گی۔ یوں عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی اور حکمرانوں کے کریڈٹ لینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس معاملے کا سب سے حساس پہلو عام شہریوں کے حقوق ہیں۔ ہزاروں لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرکے پلاٹ خریدے، گھر بنائے اور اپنے بچوں کے لیے چھت کا انتظام کیا۔ کسی نے بینک سے قرض لیا، کسی نے زمین فروخت کی، کسی نے برسوں بیرون ملک محنت کرکے پیسے جمع کیے۔ اب اگر دس، پندرہ یا بیس سال بعد متعلقہ ادارے یہ کہہ دیں کہ آپ کا گھر یا آپ کی زمین غیر قانونی ہے تو اس غریب شہری کا کیا قصور ہے؟

غوری ٹاؤن فیز سیون اور دیگر ایسی آبادیوں کے حوالے سے بھی یہی سوال اٹھتا ہے۔ اگر کسی ہاؤسنگ اسکیم میں غیر قانونی تعمیرات ہوئیں، اگر زمین کی خرید و فروخت میں بے ضابطگیاں ہوئیں یا اگر متعلقہ اداروں کی منظوریوں میں مسائل تھے تو ان تمام معاملات کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ لیکن اس دوران عام خریدار کو محض اس بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے اپنی جمع پونجی سے ایک پلاٹ خریدا اور اس پر گھر تعمیر کر لیا۔ قانون کی خلاف ورزی جہاں ثابت ہو وہاں کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن متاثرہ شہریوں کے حقوق، ان کے مالی نقصان اور ان کی بے خبری کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ غیر قانونی تعمیرات گرا دے، بلکہ اس کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات ہونے ہی نہ دے۔ اگر کسی علاقے میں برسوں سے تعمیرات جاری رہیں، بجلی اور گیس کے کنکشن فراہم ہوتے رہیں، ٹیکس اور دیگر واجبات وصول کیے جاتے رہیں اور لوگ وہاں آباد ہوتے رہیں تو پھر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے۔

پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر شہروں میں جاری آپریشن کے حوالے سے بھی یہی اصول اپنانا ہوگا۔ سڑکوں، فٹ پاتھوں، نالوں اور سرکاری اراضی پر قائم تجاوزات کا خاتمہ شہری سہولتوں کے لیے ضروری ہے۔ دکانداروں اور کاروباری افراد کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی راستوں پر قبضہ کسی صورت درست نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کارروائی یکساں ہو، کسی امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون نہ ہو اور کسی بااثر شخص کی تعمیر صرف اس وجہ سے محفوظ نہ رہے کہ اس کے پاس سیاسی یا انتظامی اثرورسوخ ہے۔

اگر حکومت واقعی اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے تو اسے چند بنیادی اقدامات کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے ہر علاقے میں تجاوزات کی مکمل نشاندہی اور قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے۔ دوسری طرف یہ معلوم کیا جائے کہ تجاوزات کب اور کس کے دور میں قائم ہوئیں۔ متعلقہ افسران، اداروں اور ان افراد کی ذمہ داری طے کی جائے جنہوں نے غیر قانونی تعمیرات کو پنپنے دیا۔ جہاں سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت ثابت ہو وہاں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ متاثرہ شہریوں کو قانونی چارہ جوئی اور اپیل کا مناسب موقع دیا جائے اور جہاں اداروں کی غلطی سے شہریوں کا نقصان ہوا ہو وہاں انصاف کے تقاضوں کے مطابق ازالے کا طریقہ بھی وضع کیا جائے۔

یہاں ایک اور بنیادی مسئلہ ہمارے نظام حکمرانی کا ہے۔ پاکستان میں اکثر معاملات قانون اور اداروں کے بجائے افراد کی مرضی سے چلتے ہیں۔ کسی عہدے پر کون سا افسر بیٹھا ہے، کون وزیر ہے اور کون حکمران ہے، اس سے فیصلہ ہوتا ہے کہ قانون کا اطلاق کس انداز میں ہوگا۔ ایک دور میں جو فیصلہ درست سمجھا جاتا ہے، دوسرے دور میں اسے غلط قرار دے دیا جاتا ہے۔ قوانین اور قواعد کی تشریحات بھی اکثر وقت اور حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام شہری کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے حقوق کیا ہیں، اس کی ملکیت کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کل کو کوئی نیا حکم اس کی زندگی کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔

یہی غیر یقینی صورت حال عدالتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات کے حوالے سے بھی عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ جب شہری یہ دیکھتا ہے کہ قانونی معاملات میں مختلف ادوار میں مختلف تشریحات سامنے آتی ہیں تو اس کے ذہن میں قانون کی یکساں عملداری کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ریاستی اداروں پر اعتماد صرف بڑے بڑے دعووں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ قانون سب کے لیے ایک ہو، اس کا اطلاق مستقل ہو اور شہری کو اپنے حقوق کے تحفظ کا یقین ہو۔

پاکستان کو درپیش سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں سے کوئی ایک شخصیت یا چند شخصیات نہیں نکال سکتیں۔ چاہے وہ کتنی ہی مخلص کیوں نہ ہوں، جب تک نظام مضبوط نہیں ہوگا، ان کے اقدامات بھی مستقل نتائج نہیں دے سکیں گے۔ آج ایک حکومت کوئی فیصلہ کرے گی، کل دوسری حکومت آکر اسے تبدیل کر دے گی۔ آج ایک پالیسی بنے گی، کل اسے ختم کر دیا جائے گا۔ اس طرح ریاستی نظام ایک ایسے دائرے میں گھومتا رہے گا جہاں ہر آنے والا اپنے پیش رو کے اقدامات کو غلط قرار دے کر نئے سرے سے کام شروع کر دے گا۔

ملک کو اس دائرے سے نکالنے کا واحد راستہ آئین اور قانون کی بالادستی ہے۔ ایسی قیادت اور ایسی شخصیات کی ضرورت ہے جو اپنی سیاسی وابستگیوں، ذاتی مفادات اور وقتی مقبولیت سے بالاتر ہوکر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ وہ اپنے دور میں ہونے والی غلطیوں کا بھی احتساب کریں اور اپنے لوگوں کو بھی قانون سے بالاتر نہ سمجھیں۔ اگر کوئی تجاوزات قائم کرانے میں ملوث ہے تو اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومت سے ہو، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ پشاور میں کتنی دکانیں گرائی گئیں، کتنے فٹ پاتھ واگزار کرائے گئے یا کتنی سڑکیں کشادہ ہوئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان تجاوزات کو قائم ہونے سے روکنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟ کیا ان ذمہ داروں کا بھی احتساب ہوگا؟ کیا مستقبل میں دوبارہ ایسی تعمیرات کو روکا جا سکے گا؟ اور کیا عام شہری کو یہ ضمانت ملے گی کہ اس کی قانونی ملکیت کسی انتظامی غلطی یا پالیسی کی تبدیلی کی نذر نہیں ہوگی؟

اگر ان سوالات کے جواب تلاش کیے بغیر صرف بلڈوزر چلائے جاتے رہے تو آج کا آپریشن کل ایک نئی مہم کی شکل اختیار کر لے گا۔ دس سال بعد کوئی دوسری حکومت آئے گی، دوبارہ تجاوزات کے خلاف کارروائی ہوگی اور وہ بھی اسے اپنی کامیابی قرار دے گی۔
لیکن اس تمام عرصے میں سب سے بڑا نقصان ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کو ہوگا۔ جب شہری کو یہ یقین نہ رہے کہ اس کی ملکیت محفوظ ہے، قانون مستقل ہے اور ریاست اپنے اداروں کی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے تو پھر اس کا اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔

تجاوزات ختم کرنا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری تجاوزات پیدا کرنے والے نظام کو ختم کرنا ہے۔ کیونکہ عمارتیں گرانے سے شہر تو صاف ہوسکتے ہیں، مگر ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔ ریاست تب مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی حکمرانی ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور کسی شہری کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

Related posts

عمران خان کی صحت کا معاملہ پھر زیر بحث، اہل خانہ اور پی ٹی آئی کے طبی سہولیات سے متعلق مطالبات

نیشنل گرڈ کا ترسیلی نظام ناکام، پاکستانی شہری مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور

مولانا فضل الرحمان نے کبھی گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا، رانا ثنا اللہ