عمران خان کی صحت کا معاملہ پھر زیر بحث، اہل خانہ اور پی ٹی آئی کے طبی سہولیات سے متعلق مطالبات

اسلام الدین ساجد

اسلام آباد (پاک ٹوڈے) پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ ان کے وکیل سے سات ماہ بعد ملاقات کے بعد ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ان کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، جبکہ دائیں آنکھ کی بینائی پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہے۔

پی ٹی آئی نے عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور ان کے ذاتی معالجین کو طبی معائنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کا مناسب خیال رکھا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اور سینئر وکیل بیرسٹرسلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ عمران خان کا بلڈ پریشر مسلسل بڑھ رہا ہے اور حالیہ ملاقات کے دوران ان کی بالائی سطح 192 تک پہنچنے کی اطلاع ملی۔
بیرسٹر راجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے اور عمران خان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کے مطابق، سابق وزیراعظم کے ذاتی معالجین، جو تقریباً 40 سال سے ان کا علاج کر رہے ہیں، کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی، جس سے ان کی ادویات، خوراک اور طبی نگہداشت کے بارے میں سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کا تحفظ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی خاندان اور اپنے متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر ملک اور بیرون ملک مؤثر آواز اٹھائے گی۔

وکیل کی سات ماہ بعد ملاقات

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے 2 نومبر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی۔

صفدر کے مطابق، جیل حکام نے شام 4:30 بجے تقریباً 40 منٹ کی ملاقات کا انتظام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان سے سات ماہ اور بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد ملاقات ہوئی۔

وکیل نے کہا کہ ملاقات کا وقت تمام مقدمات اور قانونی امور پر گفتگو کے لیے ناکافی تھا، تاہم دونوں نے انہیں اپنی صحت اور جیل میں رہنے کے حالات سے آگاہ کیا اور مختلف مقدمات کے حوالے سے نئی ہدایات بھی دیں۔

صفدر نے ملاقات کے بعد مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ان کی رپورٹ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اپنی صحت اور رہائشی حالات سے متعلق معلومات فراہم کیں۔

بہن اور بیٹے کے خدشات

عمران خان کی بہن روبینہ خان نیازی نے 3 نومبر کو اپنے بیان میں کہا کہ 2 نومبر کی ملاقات کے دوران ان کے بھائی نے بتایا کہ ان کا بلڈ پریشر 192 تک پہنچ گیا تھا اور یہ کیفیت مسلسل جاری ہے۔

نیازی کے مطابق، عمران خان نے بتایا کہ انہیں پہلے بلند فشار خون کی شکایت نہیں تھی اور ایک سال قبل ان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق تھا۔ خاندان نے ان کی صحت کے بارے میں آزادانہ طبی معائنے اور ذاتی معالج کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ کیا ہے۔

عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے والد کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلند فشار خون ان کی تنہائی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے والد کو جلد رہا نہ کیا گیا تو وہ جیل میں جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

بینائی کا مسئلہ اور سپریم کورٹ کا حکم

عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات کئی ماہ سے موجود ہیں۔ فروری 2026 میں سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 85 فیصد متاثر ہو چکی تھی اور صرف 15 فیصد بینائی باقی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، عمران خان نے بتایا تھا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی بینائی معمول کے مطابق تھی، لیکن بعد میں دھندلاہٹ شروع ہوئی اور حالت بتدریج خراب ہوتی گئی۔ طبی معائنے میں دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا سامنے آیا تھا۔ بعد میں حکومت نے کہا کہ خان کا علاج اسلام اباد کے ماہر ڈاکٹروں سے کرایا گیا ہے اور ان کے بینائی میں کافی بہتری ائی ہے۔

اگست 2026 میں سپریم کورٹ نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے حکام کو دو دن کے اندر منتقلی، ماہرین پر مشتمل طبی بورڈ کی تشکیل اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو علاج میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

عدالت نے ہفتہ وار اہل خانہ سے ملاقات اور ان کے بیٹوں سے ہفتے میں دو بار ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
تاہم، پی ٹی آئی اور خاندان کا کہنا ہے کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کے حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس سے قبل عمران خان کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا تھا، جس پر ان کے اہل خانہ اور پارٹی نے اعتراض کیا تھا۔

تحریک انصاف نے بعد میں سپریم کورٹ اف پاکستان میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی کہ حکومت نے اعلی عدالت کے حکم کو نہیں مانا تاہم اس درخواست پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

حکومت کا مؤقف

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  پی ٹی آئی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عمران خان کو جیل میں تمام ضروری سہولیات اور بہتر طبی نگہداشت فراہم کر رہی ہے۔

حکومت کے مطابق، سابق وزیراعظم کو سرکاری اسپتال میں علاج کی سہولت میسر ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے جانے والے خدشات سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں۔

حکومت نے عمران خان کے ساتھ بدسلوکی یا طبی غفلت کے الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔

پس منظر

عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ وہ اور ان کی جماعت ان کے خلاف مقدمات کو سیاسی طور پر ” انتقام اور سیاسی مقدمات ” قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں کے تحت سزا یافتہ قیدی ہیں۔

ان کی صحت، جیل میں تنہائی اور اہل خانہ و وکلا تک رسائی اور ملاقاتوں پر پابندی کے معاملات پاکستان میں سیاسی اور انسانی حقوق کے مباحثے کا اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔

جبکہ اب ایک بار پھر عمران خان کی صحت کے خرابی ، جیل میں ان سے برا سلوک،  ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینے ، آزادانہ طبی معائنہ اور سپریم کورٹ کے اسپتال منتقلی کے حکم پر عمل درآمد کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

Related posts

سوات میں خاتون سے مبینہ زیادتی، دو پولیس اہلکار گرفتار

نیشنل گرڈ کا ترسیلی نظام ناکام، پاکستانی شہری مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور

مولانا فضل الرحمان نے کبھی گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا، رانا ثنا اللہ