بلوچستان کا گرین بیلٹ زرعی بحران کی زد میں، اوستہ محمد میں لاکھوں من دھان کی فروخت متاثر

نعیم اچکزئی

ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش، پانی کی قلت، مہنگی کھادوں اور زرعی ادویات نے کسانوں، زمینداروں اور مزدوروں کی مشکلات بڑھا دیں؛ دھان کی سرکاری امدادی قیمت مقرر کرنے، بارڈر کھولنے اور سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ

بلوچستان کا زرعی گرین بیلٹ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، جہاں ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت میں رکاوٹوں، پانی کی قلت، مہنگی کھادوں، زرعی ادویات اور زرعی اجناس کی غیر مستحکم قیمتوں نے کسانوں اور زمینداروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ضلع اوستہ محمد میں دھان کی فصل کی فروخت متاثر ہونے سے زمیندار پریشان ہیں، جبکہ مقامی رائس ملز اور دیگر مقامات پر بڑی مقدار میں زرعی اجناس موجود ہونے کے باوجود کسانوں کو اپنی پیداوار کے مناسب نرخ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی زمینداروں، تاجروں اور مل مزدوروں نے حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان قانونی سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں، دھان کی سرکاری امدادی قیمت مقرر کی جائے، گندم کی مناسب قیمت یقینی بنائی جائے اور زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لائی جائے، تاکہ زراعت سے وابستہ لاکھوں افراد کے معاشی مسائل کم ہو سکیں۔

زمیندار و تاجر محمد حفیظ جمالی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کھادوں، بالخصوص ڈی اے پی، اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں کمی کی جائے، کیونکہ کاشتکاری کے اخراجات میں مسلسل اضافے سے چھوٹے کسانوں اور زمینداروں کے لیے فصلوں کی کاشت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی فی من قیمت کم از کم پانچ سے چھ ہزار روپے مقرر کی جائے، جبکہ دھان کی فصل کے لیے بھی مناسب سرکاری نرخ طے کیے جائیں، تاکہ کسانوں کو ان کی محنت اور سرمایہ کاری کا مناسب معاوضہ مل سکے۔

محمد حفیظ جمالی کے مطابق سرحدی راستوں کی بندش سے زرعی اجناس کی تجارت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جس کے اثرات صرف کسانوں اور زمینداروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ مزدوروں، تاجروں اور عام صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرحدی تجارت کی بحالی کے ساتھ زرعی شعبے کو درپیش دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں۔

تقریباً 107 رائس ملز کا کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ

مل مزدور یونین ضلع اوستہ محمد کے جنرل سیکریٹری سید بچل شاہ کا کہنا ہے کہ ضلع میں تقریباً 107 رائس ملز ہیں، جہاں دھان کی خریداری اور پراسیسنگ کے ذریعے بڑی تعداد میں مزدوروں کو روزگار ملتا ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں لاکھوں من کے حساب سے دھان کی خریداری ہوتی ہے، تاہم سرحدی تجارت میں رکاوٹوں اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی سے اس شعبے سے وابستہ افراد کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

سید بچل شاہ کے مطابق اگر افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارتی راستے کھلے رہیں تو زرعی اجناس کی آمدورفت اور تجارت کو فروغ مل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدوں کے ذریعے قانونی تجارت بحال ہونے سے کسانوں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے کے مزید مواقع مل سکتے ہیں، جبکہ زمینداروں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مل مزدوروں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا دباؤ بالآخر مزدور طبقے پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ کاروبار میں کمی سے روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں اور محنت کشوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سید بچل شاہ نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ زرعی اور تجارتی سرگرمیاں دوبارہ بہتر ہو سکیں۔

 سرکاری گندم کے ذخائر اور سستے آٹے کی فراہمی کا مسئلہ

مل مزدور یونین کے جنرل سیکریٹری سید بچل شاہ نے ضلع اوستہ محمد میں سرکاری گندم کے ذخائر اور عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کے بقول، ماضی میں ضلع میں تقریباً پانچ سے آٹھ لاکھ بوریاں گندم خریدی گئی تھیں، جن میں سے بعض ذخائر کے خراب ہونے اور ضائع ہونے کی شکایات سامنے آئی تھیں۔

انہوں نے حکومت، محکمہ خوراک اور پاسکو سے مطالبہ کیا کہ سرکاری گندم کے موجودہ ذخائر، ان کی حالت اور دستیابی کا جائزہ لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گندم ذخیرہ کرنے کے دوران خراب نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقامی سطح پر قابل استعمال گندم دستیاب ہے تو اس کی مناسب تقسیم اور فلور ملز کو کوٹہ فراہم کرنے کے ذریعے شہریوں کو سستا آٹا مہیا کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سید بچل شاہ کے مطابق بعض مقامی تاجروں کے پاس بھی گندم کے ذخائر موجود ہیں، لیکن غریب طبقے کو سستے آٹے کی فراہمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ گندم کی دستیابی اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ ان کے مطابق سرحدی تجارت کی بحالی اور اشیائے خورونوش کی بہتر فراہمی سے مقامی معیشت پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گندم کی قیمت میں اضافے سے کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے

کسان ممتاز علی کلاچی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے زرعی علاقوں میں کسانوں اور زمینداروں کو ایک طرف فصلوں کی مناسب قیمت نہیں ملتی، جبکہ دوسری جانب کھادوں، زرعی ادویات، پانی اور دیگر پیداواری اخراجات میں اضافہ ان کی مشکلات بڑھا رہا ہے۔

ممتاز علی کلاچی کے مطابق 2025 میں گندم کی فصل فروخت کرتے وقت انہیں فی من تقریباً 2 ہزار 200 سے 3 ہزار روپے تک قیمت مل رہی تھی، جبکہ اب اسی گندم کو خریدنے کے لیے تقریباً 6 ہزار روپے فی من ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول، فصل فروخت کرتے وقت کم قیمت اور دوبارہ گندم خریدنے کے دوران زیادہ قیمت ادا کرنے کی صورت حال کسانوں اور زمینداروں کے مالی مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی اخراجات پورے کرنے کے لیے کسان اکثر قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں، لیکن اگر فصل کی فروخت سے مناسب آمدن حاصل نہ ہو تو قرضوں کی ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال سے نہ صرف زمیندار بلکہ ان کے ہاں کام کرنے والے کسان اور مزدور بھی متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ دیہی معیشت میں روزگار کے مواقع بڑی حد تک زرعی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔

پانی کی قلت اور غیر معیاری زرعی ادویات بھی بڑا مسئلہ

ممتاز علی کلاچی نے کہا کہ زرعی بحران کی ایک اہم وجہ پانی کی قلت ہے۔ ان کے مطابق جب فصلوں کو بروقت پانی دستیاب نہ ہو تو کاشتکاری متاثر ہوتی ہے، پیداوار کم ہو سکتی ہے اور کسانوں کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

انہوں نے زرعی ادویات کے معیار پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسانوں کو غیر معیاری ادویات فراہم کی جائیں تو فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے ان کے مالی مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ زرعی ادویات اور کھادوں کے معیار کی نگرانی کی جائے، قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی سطح پر مؤثر نگرانی کا نظام بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وسیع زرعی علاقوں میں زراعت ہی آمدن اور روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اگر پانی کی قلت، مہنگے زرعی اخراجات اور فصلوں کی فروخت کے مسائل برقرار رہے تو اس کے اثرات کسانوں سے آگے بڑھ کر مزدوروں، تاجروں اور عام صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔

سرحدی تجارت کی بندش اور زرعی منڈیوں پر دباؤ

مقامی زمینداروں اور تاجروں کے مطابق ماضی میں بلوچستان سے دھان، گندم اور دیگر زرعی اجناس کی تجارت افغانستان اور ایران سمیت مختلف منڈیوں کے ساتھ ہوتی رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی آمدورفت بھی مقامی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کے مطابق سرحدی تجارت میں رکاوٹوں سے پیداوار کی فروخت کے مواقع محدود ہونے اور کاروباری سرگرمیوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اوستہ محمد اور نصیرآباد ڈویژن کی معیشت میں زراعت، دھان کی کاشت، رائس ملز اور متعلقہ کاروبار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر فصل کی فروخت بروقت اور مناسب قیمت پر نہ ہو تو کسانوں کے لیے اگلی فصل کی تیاری، کھادوں کی خریداری اور مزدوروں کی اجرت ادا کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

کسانوں اور تاجروں نے مطالبہ کیا کہ سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے متعلقہ حکام باہمی رابطے اور قانونی طریقہ کار کے تحت اقدامات کریں تاکہ مقامی پیداوار کو منڈیوں تک رسائی مل سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف سرحدیں کھولنا کافی نہیں ہوگا بلکہ کسانوں کو مناسب نرخ، زرعی پانی، معیاری ادویات اور سستی کھادوں کی فراہمی بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

بلوچستان میں سالانہ چاول کی پیداوار تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار ٹن ہے، جو 1 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر پر کاشت ہوتی ہے۔ رواں سال 2026-27 کے لیے بھی یہی تخمینہ ہے۔

محکمہ خوراک کے پاس فروخت نہ ہونے والے دھان کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہوتا، کیونکہ محکمہ صرف گندم خریدتا ہے۔ تاہم ضلعی رپورٹس کے مطابق اوستہ محمد میں تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ من دھان تاحال فروخت نہیں ہوا۔

فی الحال حکومت بلوچستان کا دھان کی سرکاری امدادی قیمت مقرر کرنے یا براہ راست خریداری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ تجویز حکومت کو بھیجی گئی ہے، حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی۔

محکمہ خوراک اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔ زمینداروں اور کسانوں کے درمیان مناسب نرخ طے نہیں ہوئے اور چمن و تفتان بارڈر کھول کر برآمدات بحال کروانے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیجی جا رہی ہیں تاکہ کسان کو اس کی فصل کا پورا ریٹ مل سکے۔

حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

اوستہ محمد کے کسانوں، زمینداروں، تاجروں اور مل مزدوروں نے حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دھان کی فصل کے لیے مناسب سرکاری امدادی قیمت مقرر کی جائے، گندم کی قیمت اور دستیابی کے نظام کا جائزہ لیا جائے، زرعی ادویات اور کھادوں کی قیمتوں میں کمی لائی جائے، پانی کی فراہمی بہتر بنائی جائے اور سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے محکمہ خوراک اور پاسکو سے بھی مطالبہ کیا کہ سرکاری گندم کے ذخائر کی صورت حال واضح کی جائے اور ضرورت مند شہریوں کو سستے آٹے کی فراہمی کے لیے دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں۔

مقامی کسانوں اور زمینداروں کے مطابق بلوچستان کے گرین بیلٹ کی معاشی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ زرعی پیداوار کی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جائے، کسانوں کو محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور زرعی شعبے سے وابستہ مزدوروں کے روزگار کا تحفظ کیا جائے، تاکہ اوستہ محمد سمیت نصیرآباد ڈویژن کی زرعی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

Related posts

محسن نقوی کا مولانا فضل الرحمان کو جواب، ’’اب آپ کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی‘‘

غزہ میں صحافیوں کو منظم انداز میں نشانہ بنانے، فرانسسکا البانیز نے اسے ’میڈیاسائیڈ‘ قرار دے دیا

محمود اچکزئی کا حکومت کو انتباہ، ’’آپ فرعون سے طاقتور نہیں، وہ بھی ہار گیا تھا‘‘