غزہ میں صحافیوں کو منظم انداز میں نشانہ بنانے، فرانسسکا البانیز نے اسے ’میڈیاسائیڈ‘ قرار دے دیا

جنیوا (پاک ٹوڈے): اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانسسکا البانیز نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں صحافیوں کو منظم انداز میں نشانہ بنانے کا مقصد مبینہ مظالم کو دنیا کی نظروں سے چھپانا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو ’میڈیاسائیڈ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام تک سچ پہنچانے میں میڈیا کے کردار کو منظم انداز میں تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

فرانسسکا البانیز کے مطابق غزہ میں صحافیوں پر حملے اتفاقی نہیں بلکہ دانستہ ہیں اور ان کے بقول نسل کشی کے دوران میڈیا کو نشانہ بنانا بھی اسی جرم کا حصہ ہے۔

انہوں نے فلسطینی نژاد امریکی صحافی شیریں ابو عاقلہ کے 2022 میں قتل کی تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی اور اسے جواب دہی کے فقدان کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے اس معاملے میں اسرائیل کے ساتھ امریکا کے کردار پر بھی تنقید کی۔

البانیز نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل غزہ کے خلاف جنگ کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔

انہوں نے برطانیہ، فرانس، امریکا اور بیلجیئم کے ان شہریوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دیں۔ ان کے مطابق متعلقہ ممالک کی قومی عدالتوں کے ذریعے قانونی کارروائی فوری شروع کی جانی چاہیے اور اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

Related posts

محسن نقوی کا مولانا فضل الرحمان کو جواب، ’’اب آپ کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی‘‘

محمود اچکزئی کا حکومت کو انتباہ، ’’آپ فرعون سے طاقتور نہیں، وہ بھی ہار گیا تھا‘‘

بلوچستان کا گرین بیلٹ زرعی بحران کی زد میں، اوستہ محمد میں لاکھوں من دھان کی فروخت متاثر