بلوچستان قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال مگر چمن اور قلعہ عبداللہ کے عوام گیس کی سہولت سے محروم

نعیم اچکزئی

بلوچستان قدرتی وسائل، بالخصوص قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کا حامل صوبہ ہونے کے باوجود کئی دہائیوں سے بنیادی توانائی اور گیس کی سہولتوں کی عدم دستیابی کا شکار ہے۔ ملک بھر کو توانائی فراہم کرنے والے اس صوبے کے بیشتر اضلاع آج بھی قدرتی گیس کی سہولت سے محروم ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی میں احساسِ محرومی اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بلوچستان قدرتی گیس کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے، جبکہ ایل پی جی (LPG) کی ملکی پیداوار کا بڑا حصہ دیگر صوبوں اور درآمدات پر منحصر ہے۔

قدرتی گیس کی پیداوار

تازہ ترین توانائی رپورٹس کے مطابق، تاریخی اعداد و شمار کی بنیاد پر بلوچستان میں سالانہ قدرتی گیس کی پیداوار تقریباً 285,600 ملین مکعب فٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔

بلوچستان کا سب سے بڑا اور تاریخی گیس فیلڈ سوئی گیس فیلڈ ہے، جو ضلع ڈیرہ بگٹی میں واقع ہے اور 1952 میں دریافت ہوا تھا۔

بلوچستان میں ایل پی جی (مائع پیٹرولیم گیس) کے کارخانے اور کنویں محدود ہیں، جبکہ ملک کی مجموعی ایل پی جی پیداوار کا بیشتر حصہ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے تیل و گیس کے ذخائر سے حاصل ہوتا ہے۔

پاکستان اپنی ایل پی جی کی مجموعی طلب کا تقریباً 70 فیصد درآمد کرتا ہے، جبکہ اس کا ایک بڑا حصہ، تقریباً 75 فیصد، پاک ایران سرحدی راستوں کے ذریعے بلوچستان میں داخل ہوتا ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی مخلوط صوبائی حکومت کے دورِ اقتدار، یعنی 2013 کے دوران، ضلع قلعہ عبداللہ اور چمن کے لیے قدرتی گیس کی پائپ لائن بچھانے کا ایک میگا پروجیکٹ منظور کیا گیا تھا۔ تاہم، انتظامی سست روی اور مقامی قبائلی تنازعات کے باعث یہ اہم منصوبہ کئی سال سے زیرِ التوا ہے، جس کے نتیجے میں سرحدی اضلاع کے شہری آج تک قدرتی گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔

پاک ایران سرحد کی بندش اور ایل پی جی کا بحران

پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہ ہونے کے باعث چمن اور قلعہ عبداللہ کے شہریوں کا انحصار مکمل طور پر ایل پی جی اور ایرانی گیس پر تھا۔

پاک ایران سرحد کی بندش کے بعد ایرانی ایل پی جی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے اور اب تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 450 روپے سے بڑھ کر 550 سے 600 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

مارکیٹ میں پاکستانی ایل پی جی کی شدید قلت ہے اور اس کی رسد عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔

چمن کے ایل پی جی ڈیلر جعفر خان کے مطابق، ڈیلرز کا تمام کاروبار ایرانی گیس کی آمد پر منحصر تھا۔ سرحد کی طویل بندش کے باعث کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، حتیٰ کہ دکانوں کے کرائے اور بجلی کے بل ادا کرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔

مہنگی اور نایاب ایل پی جی کے باعث عام اور غریب خاندانوں کے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس صورتِ حال میں لوگ مجبوری کے تحت ایندھن کے لیے سوختنی لکڑی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ماحول اور جنگلات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مقامی شہری محمد نواز اور چمن و قلعہ عبداللہ کے مختلف حلقوں نے اس صورتِ حال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اپنے ہی صوبے کے قدرتی وسائل سے ملک کے دیگر صوبوں اور شہروں کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ایک ہی ملک میں ترقی اور سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے موجود دوہرے معیار اور تفریق کا خاتمہ کیا جائے۔

چمن، قلعہ عبداللہ اور بلوچستان کے متاثرہ اضلاع کے عوام اور تجارتی حلقوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:

– وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر پاکستانی ایل پی جی کی باقاعدہ اور سستی فراہمی یقینی بنائیں۔
– پاک ایران سرحد پر گیس کی آمدورفت اور تجارتی مسائل کا فوری اور پائیدار حل نکالا جائے۔
– قلعہ عبداللہ اور چمن کے لیے منظور شدہ گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق قبائلی تنازعات حل کرکے اس پر کام دوبارہ شروع کیا جائے، تاکہ عوام کو مستقل بنیادوں پر گیس کی سہولت میسر آ سکے۔

Related posts

نصیرآباد میں جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ، تمام مسافر محفوظ رہے

حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں غیر حاضری پر ایک درجن سے زائد ملازمین معطل

لاہور میں بچوں کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کرنے والے گروہ کا انکشاف، ایک ملزم گرفتار