بلوچستان حکومت کا مبینہ جعلی خبریں پھیلانے کے الزام پر 3 صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

کوئٹہ (پاک ٹوڈے): بلوچستان حکومت نے وزیراعلیٰ ہاؤس سے متعلق مبینہ جعلی خبریں پھیلانے کے الزام میں 3 صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے میڈیا شاہد رند نے کہا کہ جعلی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مضبوط شواہد جمع کیے گئے ہیں۔

شاہد رند کے مطابق واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جعلی خبروں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات کی تشہیر روکنے کے لیے متعلقہ قوانین پر عمل درآمد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم جن تین صحافیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے، ان کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف بلوچستان نے کوئٹہ میں میڈیا ہاؤسز کے دفاتر اور صحافیوں کے گھروں پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے چھاپوں کی شدید مذمت کی ہے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات غفار کاکڑ نے کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنا اور خوف و دباؤ کے ذریعے خاموش کرانے کی کوششیں جمہوری اقدار اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہیں۔

بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن نے بھی رات کے وقت صحافیوں کے گھروں اور دفاتر پر چھاپوں کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے منافی قرار دیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق آزاد صحافیوں کی آواز دبانے کا مطلب عوام کو حقائق سے محروم کرنا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اختلاف رائے اور تنقید کا جواب طاقت کے بجائے دلیل، قانون اور جمہوری رویوں سے دیا جانا چاہیے، جبکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ صحافیوں کے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

Related posts

ٹانک میں چار پولیو ورکرز کا اغوا، گورنر خیبرپختونخوا کا فوری بازیابی کا مطالبہ

مہمند میں پولیس ٹیم پر فائرنگ، دو اہلکار جان سے گئے، ایک زخمی

خیبرپختونخوا میں پوسٹنگ اور تبادلوں کے لیے کروڑوں روپے وصول کیے گئے، ثمر ہارون بلور کا الزام