بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خلاف قراردا، قبائلی رہنماؤں کی مخالفت، ایوان میں گرما گرمی

نعیم اچکزئی کی رپورٹ

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے فوری خاتمے اور تحریر و تقریر میں سردار اور نواب کے القابات کے استعمال پر پابندی سے متعلق قرارداد نمٹا دی گئی، تاہم اس معاملے پر ایوان میں ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ دوسری جانب بلوچستان کے متعدد قبائلی رہنماؤں نے بھی سرداری اور نوابی نظام کے خاتمے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے صدیوں پرانی قبائلی روایات ختم نہیں کی جا سکتیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی ہدایت الرحمٰن بلوچ کی جانب سے سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد ایجنڈے میں شامل تھی۔ قرارداد میں صوبے سے سرداری نظام کے فوری خاتمے اور تحریر و تقریر میں سردار اور نواب جیسے القابات کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے قانونی اور عدالتی ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قانون سازی 1976 میں ہو چکی ہے اور اس قانون کا اطلاق صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے ملک پر ہوتا ہے۔

اسپیکر نے مزید بتایا کہ سرداری نظام سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کو وفاقی آئینی عدالت نے بھی 6 مارچ کو برقرار رکھا تھا۔ ان کے مطابق، اس حوالے سے پہلے سے موجود قانونی اور عدالتی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے قرارداد نمٹائی جا رہی ہے۔

قرارداد نمٹائے جانے کے بعد جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی ہدایت الرحمٰن بلوچ نے اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب قرارداد اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل تھی تو اس پر مزید کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضروری اصلاحات کے بعد قرارداد دوبارہ پیش کریں گے۔

ہدایت الرحمٰن بلوچ اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

قرارداد پر کارروائی کے بعد جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی ہدایت الرحمٰن بلوچ اور اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ حکومتی ارکان نے بھی اپوزیشن لیڈر کے مؤقف کی حمایت کی۔

میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ جب اسپیکر قرارداد نمٹا چکے ہیں تو اس معاملے پر مزید بحث کی گنجائش نہیں۔ اس پر ہدایت الرحمٰن بلوچ نے سوال اٹھایا کہ ان کے بیان پر اپوزیشن کو اعتراض کیوں ہے، جس کے بعد دونوں ارکان کے درمیان طنزیہ اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

اس دوران ایوان میں سرداری نظام، اس کی تاریخی حیثیت اور قبائلی معاشرے میں اس کے کردار کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض ارکان نے اس نظام کے خاتمے اور قانون کے یکساں نفاذ پر زور دیا، جبکہ دیگر ارکان نے تمام قبائلی عمائدین کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کے مؤقف سے اختلاف کیا۔

حکومتی ارکان کا مؤقف: کسی ایک فرد کے عمل کو پورے نظام سے منسوب نہ کیا جائے

پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر احمدزئی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سرداری نظام ہزاروں سال سے موجود ہے اور کسی ایک فرد کی بنیاد پر پورے نظام کو غلط قرار دینا مناسب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سردار یا اس سے وابستہ شخص ظلم، ناانصافی یا کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث ہو تو اس کی نشاندہی ہونی چاہیے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ تاہم، ان کے بقول، کسی ایک فرد کے عمل کی بنیاد پر تمام سرداروں کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔

پارلیمانی سیکریٹری نوابزادہ زرین خان مگسی نے بھی کہا کہ جب اسپیکر قرارداد نمٹا چکے ہیں تو اس پر مزید بحث نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی رکن اس معاملے کو دوبارہ ایوان میں زیرِ بحث لانا چاہتا ہے تو وہ نئی یا نظرثانی شدہ قرارداد پیش کر سکتا ہے۔

اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے اس موقع پر کہا کہ قرارداد نمٹائی جا چکی ہے، تاہم ہدایت الرحمٰن بلوچ کا مؤقف بھی سنا جانا چاہیے، کیونکہ وہ سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق پہلے سے موجود قانون پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

قبائلی رہنماؤں کی سرداری اور نوابی نظام کے خاتمے کی مخالفت

دوسری جانب بلوچستان کے متعدد قبائلی رہنماؤں نے سرداری اور نوابی نظام کے خاتمے سے متعلق مطالبے کی مخالفت کی ہے۔ نواب محمد خان شاہوانی، سردار کمال خان بنگلزئی اور دیگر قبائلی رہنماؤں نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں محض ایک قرارداد منظور یا پیش کیے جانے سے سرداری اور نوابی کا صدیوں پرانا نظام ختم نہیں کیا جا سکتا۔

قبائلی رہنماؤں کے مطابق، سرداری اور نوابی روایات بلوچستان کے قبائلی معاشرے کا حصہ رہی ہیں اور ان کی تاریخی و سماجی حیثیت کو نظرانداز کرکے کوئی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

نواب محمد خان شاہوانی نے کہا کہ اگر کوئی سردار یا اس سے وابستہ شخص غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو حکومت اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ تاہم، کسی ایک شخص کی غلطی یا غیرقانونی عمل کی ذمہ داری پورے قبائلی نظام پر عائد کرنا مناسب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مختلف قبائلی علاقوں میں جرگوں اور مقامی عمائدین کی مدد سے لوگوں کے تنازعات حل کیے جاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، قبائلی عمائدین بعض مقامی تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس روایت کی سماجی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

سردار کمال خان بنگلزئی کا مؤقف

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار کمال خان بنگلزئی نے کہا کہ اگر حکومت سرداری نظام ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے اس فیصلے کی قانونی اور سماجی وجوہات واضح کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو بروقت اور سستا انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل، امن و امان کی بہتری اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دے۔

قبائلی رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام، عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے مؤثر حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، سرداری نظام سے متعلق کسی بھی فیصلے میں صوبے کی تاریخی، سماجی اور قبائلی روایات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

سرداری نظام پر بحث کیوں اہم ہے؟

بلوچستان میں سرداری نظام ایک عرصے سے سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس نظام کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ قبائلی سرداروں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے، شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب سرداری نظام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قبائلی عمائدین اور جرگے مقامی سطح پر تنازعات کے حل اور سماجی معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، کسی پورے نظام کو ختم کرنے سے متعلق فیصلے میں اس کے قانونی اور معاشرتی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اس معاملے میں ایک اہم قانونی نکتہ بھی سامنے آیا ہے کہ اسپیکر کے مطابق، سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قانون سازی 1976 میں ہو چکی ہے۔ تاہم، موجودہ بحث میں پہلے سے موجود قانون پر عمل درآمد، اس کے دائرۂ کار اور سردار و نواب کے القابات کے استعمال جیسے معاملات پر مزید وضاحت اور قانونی حوالوں کی اہمیت برقرار ہے۔

یوں بلوچستان اسمبلی میں قرارداد نمٹائے جانے کے باوجود سرداری نظام کے خاتمے، قبائلی روایات کے کردار اور قانون کے یکساں نفاذ سے متعلق بحث جاری ہے۔ ایک جانب اس نظام کے مخالفین اصلاحات اور قانون پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب قبائلی رہنما اس نظام کی تاریخی و سماجی حیثیت کا دفاع کر رہے ہیں۔

ایک طبقے اور بعض سیاسی رہنماؤں کے مطابق، سرداری نظام پسماندگی، عام آدمی کے استحصال اور تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

دوسری طرف، بعض سیاسی جماعتوں، جیسے جمعیت علمائے اسلام اور دیگر حلقوں، نے اس قسم کی قراردادوں یا اس نظام پر ہونے والی بحث پر اپنے تحفظات اور مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

مولانا ہدایت الرحمٰن نے غریبوں اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے اپنے دفتر میں سرداروں کے خلاف ایک شکایت سیل قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اسمبلی کا اجلاس 10 نومبر تک ملتوی

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران سرداری نظام سے متعلق قرارداد اور اس پر ارکان کے مؤقف کے بعد کارروائی جاری رہی، تاہم کورم پورا نہ ہونے کے باعث اسپیکر نے اجلاس 10 نومبر تک ملتوی کر دیا۔

Related posts

بنوں میں ملک سبیل خان کی گاڑی پر دھماکہ، بیٹا مارا گیا، 3 افراد زخمی

بجلی کے 200 یونٹ کی حد ختم کرنے پر غور، صاحب حیثیت صارفین رعایت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اویس لغاری

حوثی عہدیدار نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری فوجی مدد کی اجازت کو اعلانِ جنگ قرار دے دیا