بدخشان میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی کمانڈر کے درمیان تصادم، کئی افراد ہلاک

کابل (پاک ٹوڈے): صوبہ بدخشان کے ضلع نسی میں سیکیورٹی فورسز اور امارت اسلامی افغانستان کے سابق مقامی مسلح کمانڈر جمعہ خان فاتح کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

 

افغان وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاک ٹوڈے کو بتایا کہ کارروائی کا آغاز اس وقت ہوا جب امارتِ اسلامیہ کے احکامات کی مسلسل خلاف ورزی اور زمینوں پر غیر قانونی قبضے کی شکایت پر فورسز نے جمعہ خان کے خلاف کارروائی کی کوشش کی۔

 

عہدیدار کا کہنا تھا کہ جمعہ خان فاتح علاقے میں غیر قانونی طور پر سونے کی کان کنی، عوامی اراضی پر قبضے اور خودسرانہ مسلح سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ انتظامیہ کی جانب سے صوبائی سطح پر تبدیلی کے احکامات اور فہم و فراست کی تمام کوششوں کو رد کیے جانے پر سیکیورٹی فورسز نے ان کا مسلح نیٹ ورک ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ فورسز کے پہنچنے پر مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں فورسز نے شدید جوابی کارروائی کی اور افغان ایئر فورس نے ضلع نسی میں قائم ان کی قرارگاہوں اور اڈوں کو نشانہ بنایا۔

 

سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ نظام کے خلاف بغاوت یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کرنے والے تمام عناصر، خواہ وہ داخلی ہوں یا خارجی، کے خلاف سخت اور قاطع پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی بھی فرد کو ریاستی احکامات سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام کے مطابق صوبے بھر، بالخصوص سرحدی علاقوں میں فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔

 

Related posts

افغان فضائیہ کی سرحدی خلاف ورزی اور تاجک خاتون کی ہلاکت: تاجکستان کا افغان حکومت سے شدید احتجاج

مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی مشترکہ خشکی، بحری اور فضائی مشقوں کا فیصلہ

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر سنگین الزام: ‘مخالف گروہوں اور داعش کی سرپرستی کی جا رہی ہے’