بائننس پر مبینہ سائبر حملہ: خطرہ بلاک چین کو ہے یا ایکسچینجز کے سیکیورٹی نظام کو؟

دنیا کے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں شمار ہونے والے بائننس پر مبینہ سائبر حملے اور اربوں ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی نے کرپٹو کرنسی کے تحفظ، صارفین کی سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی سیکیورٹی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، ہیکرز نے بائننس سے منسلک ایک ڈیجیٹل والیٹ سے تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے اثاثے مبینہ طور پر چوری کیے، جن کی مالیت پاکستانی کرنسی میں 1,700 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حملے کے دوران زیادہ تر رقم تقریباً 20 منٹ کے اندر نامعلوم ڈیجیٹل والیٹس میں منتقل کر دی گئی۔

کرپٹو کرنسی کے ماہر اور کرپٹو کرنچی (Crypto Crunchy) سے وابستہ حمزہ خان کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے بنیادی طور پر بلاک چین ٹیکنالوجی کے بجائے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کے سیکیورٹی نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔

ان کے مطابق، ڈیجیٹل اثاثوں کی مبینہ غیر قانونی منتقلی بائننس کے داخلی حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو اپنے سیکیورٹی نظام، لین دین کی نگرانی اور صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی کے طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ ہیکرز اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو صارفین کے اثاثوں تک رسائی سے روکا جا سکے۔

حمزہ خان نے خبردار کیا کہ اگر ایکسچینجز نے اپنے حفاظتی نظام کو بہتر نہ بنایا تو مستقبل میں اس نوعیت کے مزید واقعات پیش آ سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ کرپٹو کرنسی کی صنعت پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بلاک چین ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسی ایکسچینج کی سیکیورٹی کو دو الگ الگ معاملات قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلاک چین نیٹ ورک لین دین کو محفوظ اور شفاف انداز میں ریکارڈ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ تاہم، صارفین کے ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ رکھنے والے ایکسچینجز کے نظام میں سائبر حملوں، غیر مجاز رسائی اور دیگر تکنیکی کمزوریوں کے باعث خطرات موجود رہتے ہیں۔

ان کے مطابق، بلاک چین ٹیکنالوجی کا محفوظ ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس پر کام کرنے والا ہر کرپٹو کرنسی ایکسچینج بھی مکمل طور پر محفوظ ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق، بائننس کی ابتدائی تحقیقات میں اس امکان کا اظہار کیا گیا تھا کہ کمپنی کے ایک ڈیواپس (DevOps) انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہوا ہو۔ تاہم، بعد کی تحقیقات میں سائبر حملے کے دیگر ممکنہ راستوں کا بھی پتا چلنے کا دعویٰ کیا گیا۔

بائننس کے مطابق، اب تک ڈیجیٹل والیٹس کی نجی چابیاں (پرائیویٹ کیز) افشا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا تھا کہ تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے بلاک چین پر منجمد کیے جا چکے ہیں، جبکہ صارفین کے ممکنہ نقصانات کی تلافی سیکیور ایسٹ فنڈ فار یوزرز (SAFU) اور کمپنی کے اپنے مالی وسائل سے کی جائے گی۔

امریکی بلاک چین تجزیاتی اداروں ٹی آر ایم لیبز (TRM Labs) اور چینالیسس (Chainalysis) نے حملے میں شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکنگ گروپ کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور بائننس نے بھی حملہ آوروں کی شناخت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

اس واقعے کے بعد فروری 2025 میں کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائیبٹ (Bybit) پر ہونے والا سائبر حملہ بھی دوبارہ زیر بحث آ گیا ہے۔ اس حملے میں تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوئی تھی۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس حملے کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر عائد کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق، کرپٹو کرنسی کے شعبے میں ڈیجیٹل اثاثوں کا تحفظ صرف بلاک چین ٹیکنالوجی تک محدود نہیں۔ ایکسچینجز کو اپنے ملازمین کے کمپیوٹرز، داخلی نیٹ ورکس، لین دین کی منظوری کے نظام اور صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی کے طریقۂ کار کو بھی محفوظ بنانا ہوگا۔

اگرچہ بلاک چین پر ہونے والے لین دین کا ریکارڈ موجود ہونے کے باعث چوری شدہ رقم کی منتقلی کا سراغ لگایا جا سکتا ہے، تاہم رقم کا سراغ مل جانا اس کی واپسی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اثاثوں کو منجمد کرنے یا واپس حاصل کرنے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کس پلیٹ فارم یا والیٹ میں موجود ہیں اور متعلقہ ادارے ان کی منتقلی روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

بائننس پر مبینہ حملے نے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے مستقبل سے متعلق ایک اہم سوال بھی اٹھا دیا ہے: کیا کرپٹو کرنسی ایکسچینجز جدید سائبر خطرات کے باوجود صارفین کی سرمایہ کاری کو مؤثر طریقے سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق، کرپٹو کرنسی کی صنعت پر اعتماد برقرار رکھنے اور اسے مزید مستحکم بنانے کے لیے مضبوط سیکیورٹی نظام، آزادانہ آڈٹ، شفاف تحقیقات اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہیں۔

Related posts

نوشہرہ میں اسسٹنٹ کمشنر اوگی عادل وسیم پر فائرنگ، زخمی حالت میں ہسپتال منتقل

پاک افغان فورسز کے درمیان کرم اور وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں ایک بار پھر جھڑپیں

مہمند میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 افراد قتل