اسلام آباد (پاک ٹوڈے): نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر کے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ 17 ستمبر تک متوقع شدید بارشوں کے نتیجے میں گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال اور شہری علاقوں میں جل تھل ہونے کا شدید خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) کے مطابق بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث ندی نالوں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں گلگت بلتستان کے گلگت، دیامر، غذر، اشکومن، گپس یاسین، نگر، ہنزہ، شمشال، اسکردو اور شگر شامل ہیں جہاں فلش فلڈنگ کی توقع ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے اپر دیر، سوات، باجوڑ، ملاکنڈ، کرم، کوہستان، مہمند اور اورکزئی میں شدید طغیانی کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ بلوچستان کے اضلاع ژوب، شیرانی اور موسیٰ خیل میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب کے گنجان آباد شہروں اور وفاقی دارالحکومت میں بھی بارشیں اربن فلڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔ این ڈی ایم اے نے اسلام آباد، راولپنڈی، گجرانوالہ، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شیخوپورہ کے شہری اور نشیبی علاقوں کے لیے بالخصوص خبردار کیا ہے۔
ممکنہ خطرات کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ صوبائی اور مقامی انتظامی اداروں کو پیشگی الرٹ جاری کرتے ہوئے ایمرجنسی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ادارہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ شدید بارشوں کے دوران محتاط رہیں اور برساتی نالوں، زیرِ آب سڑکوں، پلوں اور نشیبی گزرگاہوں کو عبور کرنے سے سخت گریز کریں۔ موسم سے متعلق بااعتماد اور تازہ ترین معلومات کے لیے شہریوں کو "پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” ایپ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی ایمرجنسی میں مدد حاصل کرنے کے لیے 911 ہیلپ لائن پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔