مکہ مکرمہ میں پہلی بار ایمرجنسی سائرن، امتِ مسلمہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، مفتی تقی عثمانی

کراچی (پاک ٹوڈے) معروف عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی نے مکہ مکرمہ میں ایمرجنسی سائرن بجنے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں مفتی تقی عثمانی نے سعودی عرب، بالخصوص مقدس شہر مکہ مکرمہ کو موجودہ کشیدہ صورتحال میں حملوں کا نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار مکہ مکرمہ میں ایمرجنسی سائرن کا بجنا معمول کا واقعہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا انتباہ ہے۔

مفتی تقی عثمانی نے موجودہ حالات میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس اور نازک وقت میں برادر ملک سعودی عرب کو نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں امریکہ کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس موقع پر سعودی عرب کی مدد اور دفاع سے امریکہ کا انکار امتِ مسلمہ کے حوالے سے اس کے روایتی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔

مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور مقدس مقامات سے متعلق کسی بھی خطرے کو معمولی واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکہ اور سعودی عرب سے متعلق کشیدگی کے باعث سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Related posts

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیس، وفاقی آئینی عدالت کے اہم سوالات

قلعہ عبداللہ: اغوا کیے گئے 5 پنجابی مزدور قبائلی جرگے کی مداخلت پر بازیاب

افغان ڈاکٹر کی پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ جاری رکھنے کی راہ ہموار