لاہور (پاک ٹوڈے): لاہور ہائیکورٹ میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کی دفعات 3 اور 16 کی آئینی حیثیت چیلنج کر دی گئی، درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔
سول متفرق درخواست فوری سماعت کے لیے جسٹس عبہر گل کے روبرو مقرر کی گئی ہے، جس میں ایم پی او کے تحت حفاظتی حراست کے اختیارات اور ان کے استعمال کے حوالے سے اہم آئینی سوالات اٹھاتے ہوئے عدالت سے قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفعہ 3 کے تحت کسی شخص کو حراست میں لینے سے قبل واضح، انفرادی، قابل اعتماد اور قانونی وجوہات ریکارڈ کی جائیں جبکہ حفاظتی حراست کی ضرورت، تناسب اور کم سخت متبادل اقدامات کا بھی جائزہ لینا لازمی قرار دیا جائے۔
درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ سیاسی وابستگی، پرامن اختلاف رائے، حکومت پر تنقید، پرامن اجتماع یا سوشل میڈیا پر اظہار رائے کو حفاظتی حراست کی بنیاد نہ بنایا جائے۔
درخواست میں ایم پی او کی دفعہ 16 کے ذریعے عدالتی نظرثانی اور قانونی احتساب میں ممکنہ رکاوٹ کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ ہر حراستی حکم میں الزام، وجوہات، مدت، ضرورت اور تناسب واضح طور پر درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں پنجاب بھر میں حفاظتی حراست کے لیے باقاعدہ آئینی حفاظتی نظام وضع کرنے، حراستی احکامات کے خلاف مؤثر نمائندگی اور آزادانہ نظرثانی کا حق دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست میں 19 جون 2025 کے بعد جاری ہونے والے ایم پی او کے تمام تازہ حراستی احکامات کے آزادانہ اور شفاف جائزے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے یکم نومبر 2024 کو ایم پی او کی دفعہ 3 کا نفاذ معطل کرنے کے سابقہ حکم اور 19 جون 2025 کو لارجر بینچ کی جانب سے اصلاحاتی تجاویز محکمہ قانون کو بھجوانے کا بھی حوالہ دیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق سابقہ مقدمے میں ایم پی او کی دفعات 3 اور 16 کی آئینی حیثیت پر میرٹ پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ موجودہ درخواست میں 13 ستمبر 2026 کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حراستی احکامات کو بھی تازہ قانونی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 12 ستمبر 2026 کے حتمی یاددہانی خط اور اضافی نمائندگی پر تاحال کوئی مؤثر جواب موصول نہیں ہوا، جبکہ چیف سیکرٹری، محکمہ داخلہ اور محکمہ قانون سے ایم پی او اصلاحات پر پیش رفت کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں ایم پی او کے اختیارات کے استعمال میں شفافیت، تناسب، جوابدہی اور عدالتی نگرانی یقینی بنانے کے لیے آئینی تحفظات نافذ کرنے کی استدعا کی گئی ہے، جبکہ غیر واضح، عمومی یا غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر حفاظتی حراست کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔