اسلام آباد (پاک ٹوڈے): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران نے یمن کے حوثیوں کے ساتھ فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی سطح پر بات چیت کی تجویز دی ہے، جس پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کمیٹی آئندہ ہفتے ریاض میں ہنگامی اجلاس کے دوران غور کرے گی۔
اسحاق ڈار کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے نمائندے ریاض میں ہونے والے اجلاس کے دوران حوثیوں کے حملوں اور ایرانی تجویز پر آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیں گے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران نے خود کو حوثیوں اور عراق میں موجود مسلح ملیشیاؤں سے دور قرار دیا ہے جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق ایرانی تجویز ابھی باقاعدہ تحریری پیشکش کی شکل میں موجود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان خیالات کے تبادلے اور ابتدائی مشاورت تک محدود ہے۔ انہوں نے اسے فوجی کارروائی کے متبادل کے طور پر زیر غور آنے والی تجویز قرار دیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ 6 سے زائد ممالک نے دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم نئے ارکان کی درخواستوں پر معاہدے کے مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس عمل میں ایک سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔