واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکا نے ایران کے لیے ہتھیار، فوجی سازوسامان اور متعلقہ پرزے حاصل کرنے میں مدد کے الزام میں 10 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں، جن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک تاجر اور اس سے منسلک کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 29 ستمبر کو عائد کی گئی پابندیوں میں پاکستان، چین، ہانگ کانگ اور ایران سے وابستہ افراد اور ادارے شامل ہیں۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ یہ افراد اور کمپنیاں ایران کی وزارت دفاع اور مسلح افواج کی لاجسٹک انتظامیہ کے لیے ایسے ہتھیار اور پرزے حاصل کرنے میں مدد دے رہی تھیں جو میزائل، ڈرون اور دیگر فوجی پروگراموں میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
پابندیوں کی فہرست میں پاکستان میں مقیم تاجر وسیم پاشا تجمل بھی شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق وہ کاوالیر گروپ کے سربراہ ہیں، جو ایک نجی دفاعی کمپنی ہے اور پاکستان سمیت بیرون ملک سرگرمیاں رکھتی ہے۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ تجمل اور کاوالیر گروپ ایران کی وزارت دفاع کے لیے درمیانی کردار ادا کرتے ہوئے ہتھیار اور متعلقہ فوجی سازوسامان حاصل کرنے میں مدد دے رہے تھے۔
امریکی بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تجمل یا ان سے منسلک کمپنیوں نے ایران کو کون سے مخصوص ہتھیار یا سازوسامان فراہم کیے، یہ سامان کب فراہم کیا گیا اور اس کی مالیت کتنی تھی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق وسیم پاشا تجمل پاکستان میں کاوالیر ڈائنامکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے بڑے شیئر ہولڈر اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ انہیں سعودی عرب میں کاوالیر ڈائنامکس فار ٹیکنالوجیز کمپنی اور ترکی میں کاوالیر ڈائنامکس ٹیکنالوجی ٹریڈنگ کمپنی سے بھی منسلک قرار دیا گیا ہے۔ امریکا نے ان تینوں کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
پابندیوں میں چین میں ایران کی وزارت دفاع کے نمائندے سید اصغر علی زادہ طباطبائی، ایران میں قائم کاوشکام ایشیا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ گروپ، ہانگ کانگ کی ای سی موجو ٹیکنالوجی کمپنی اور اس کی چینی نمائندہ لی فین بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ان افراد اور اداروں پر دوہری استعمال کی الیکٹرانک اشیا اور پرزے فراہم کرنے کا الزام ہے، جو ایران کے طیارہ سازی اور ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک صنعتوں میں استعمال ہوسکتے تھے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کے تحت فہرست میں شامل افراد اور اداروں کے وہ تمام اثاثے منجمد ہوجائیں گے جو امریکا میں موجود ہوں یا امریکی افراد و اداروں کے کنٹرول میں ہوں۔ ایسی کمپنیوں کے اثاثے بھی پابندیوں کے دائرے میں آتے ہیں جن میں پابندی زدہ افراد کا براہ راست یا بالواسطہ 50 فیصد یا اس سے زیادہ حصہ ہو۔
امریکی اجازت کے بغیر امریکی افراد اور کمپنیوں کو پابندی زدہ افراد اور اداروں کے ساتھ زیادہ تر مالی اور تجارتی لین دین کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
