ایران جنگ کی حکمت عملی پر امریکی قیادت کی تشویش اور پریشانی میں اضافہ

نیویارک (پاک ٹوڈے): ایران کے خلاف جاری جنگ کی حکمت عملی اور اس کے کامیاب ہونے کے امکانات پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی تشویش سامنے آگئی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینس نے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں تعینات امریکی فوجی کمانڈروں سے براہِ راست رابطہ کرکے جنگ کی صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی جائزہ حاصل کیا۔

رپورٹس کے مطابق فوجی کمانڈروں نے امریکی نائب صدر کو جنگ کے دوران درپیش مختلف چیلنجز سے آگاہ کیا، جن میں سب سے اہم مسئلہ اہم دفاعی میزائلوں اور انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی قرار دیا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق پیٹریاٹ میزائل نظام کے انٹرسیپٹرز کے ذخائر ایک موقع پر 100 سے بھی کم رہ گئے تھے، جس نے امریکی فوجی حکام کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اہم میزائل نظام کی فراہمی میں بھی غیر معمولی کمی کا سامنا رہا، جبکہ طویل جنگ کے نتیجے میں امریکی فوجی وسائل پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

جے ڈی وینس کی جانب سے فوجی کمانڈروں سے براہِ راست صورتحال معلوم کرنے کا اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عوامی سطح پر ایران کے خلاف کارروائی کو کامیاب قرار دیا جاتا رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینس کو دی جانے والی بریفنگز میں جنگ کے طویل ہونے، فوجی وسائل پر دباؤ اور گولہ بارود کی کمی سے متعلق خدشات بھی شامل تھے۔

دوسری جانب حالیہ رپورٹس میں بھی امریکی فوج کو جدید میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید قلت کا سامنا ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے ایران جنگ کے دوران امریکی فضائی دفاعی صلاحیت پر دباؤ مزید نمایاں ہوا ہے۔

ایران کے خلاف جاری تنازع کے طول پکڑنے کے ساتھ امریکی فوجی ذخائر، دفاعی نظام کی پائیداری اور جنگ کے مستقبل کے حوالے سے سوالات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

Related posts

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ نکالنے سے روک دیا۔

سوراب: ڈاکوؤں کی فائرنگ، خاران پریس کلب کے صدر کے بیٹے جاں بحق

پاکستانی نژاد خاتون کو 6 سال قید اور کروڑوں ڈالر جرمانے کی سزا