مریم نواز کے لندن دورے پر سرکاری طیارے کا تنازع، حکومت کا اخراجات خود برداشت کرنے کا دعویٰ

لاہور (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ لندن کے ذاتی دورے کے لیے صوبائی حکومت کے طیارے کے استعمال پر اپوزیشن اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔

مریم نواز گزشتہ ہفتے اپنی چھوٹی بیٹی ماہنور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں اور بدھ کے روز لاہور واپس پہنچیں۔

اپوزیشن رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ ذاتی اور خاندانی تقریب میں شرکت کے لیے سرکاری وسائل، بالخصوص صوبائی حکومت کے طیارے، کا استعمال کیوں کیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ذاتی دورے کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال عوام اور ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے سرکاری خزانے سے دورے کے اخراجات کیے جانے کے تاثر کو مسترد کردیا ہے۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمٰی بخاری نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ الزام درست نہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے لندن کے دورے کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق مریم نواز نے ذاتی دورے کے دوران اپنے اخراجات خود برداشت کیے، جبکہ اپوزیشن اور ناقدین کی جانب سے سرکاری طیارے کے استعمال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مریم نواز کی جانب سے لندن میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کو ذاتی دورہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سرکاری طیارے کے استعمال کا معاملہ سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومتی عہدیداروں کو ذاتی دوروں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق مکمل شفافیت اختیار کرنی چاہیے، جبکہ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے دورے کے اخراجات خود ادا کیے ہیں۔

Related posts

لاہور: ای بائیکس اسکیم اور مفت اسکوٹی ٹریننگ کا آغاز

27 ستمبر کا احتجاج: پی ٹی آئی پر حالات خون آلود بنانے کی منصوبہ بندی کا الزام

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ نکالنے سے روک دیا۔