اوپن اے آئی اور ایلون مسک کے درمیان محاذ آرائی میں شدت، اسپیس ایکس کے کوڈنگ ٹول کو ماڈلز کی فراہمی معطل

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی صنعت کے دو بڑے ناموں، سیم آلٹمین اور ایلون مسک کے درمیان جاری رسہ کشی ایک نئے اور شدید باب میں داخل ہو گئی ہے۔ اوپن اے آئی نے ایلون مسک کی خلائی و ٹیکنالوجی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ کے ملکیت یافتہ معروف کوڈنگ ٹول ’کرسر‘ (Cursor) کو اپنے ایڈوانسڈ اے آئی ماڈلز کی رسائی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

​اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کے زیرِ انتظام اداروں کے ساتھ ماضی کے تلخ تجربات کے بعد اس بات کا قوی امکان تھا کہ اسپیس ایکس کے تحت یہ ٹیکنالوجی طے شدہ شرائط و ضوابط کے مطابق استعمال نہیں کی جائے گی۔

​واضح رہے کہ دونوں کاروباری شخصیات کے درمیان بنیادی اختلافات گزشتہ کئی برسوں سے چلے آ رہے ہیں، تاہم رواں برس مسک کی طرف سے اوپن اے آئی پر دائر کیے گئے 150 ارب ڈالر کے ہرجانے کے مقدمے نے اس کشیدگی کو قانونی جنگ میں بدل دیا۔ کرسر کی خدمات منقطع کرنے کے حالیہ اقدام کو انڈسٹری کے ماہرین محض ایک قانونی چارہ جوئی نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ پر قبضے اور ٹیکنالوجیکل بائیکاٹ کا ایک نیا حربہ قرار دے رہے ہیں۔

Related posts

ایلون مسک کو بڑا دھچکا؟ ‘ٹوئٹر’ نئے روپ میں واپس آ گیا!

بچوں کو سوشل میڈیا کی لِت لگانے کا الزام: میٹا 18 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضامند

ناسا کے ‘گیٹ وے’ پروجیکٹ اور چاند پر بڑھتی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے محفوظ خلائی راستوں کا تعین کا فیصلہ