بچوں کو سوشل میڈیا کی لِت لگانے کا الزام: میٹا 18 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضامند

​واشنگٹن (پاک ٹوڈے): بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر مبنی وفاقی مقدمے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ٹیک کمپنی ‘میٹا’ 48 امریکی ریاستوں کے ساتھ 18 ارب ڈالر کے تاریخی تصفیے پر متفق ہو گئی ہے۔

​اس معاہدے کے تحت میٹا اپنے مقبول پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے استعمال کی حد خودکار طور پر روزانہ 2 گھنٹے مقرر کرے گی۔ علاوہ ازیں، رات 12 سے صبح 6 بجے تک ایپس کو بلاک کرنے کے لیے ‘نائٹ موڈ’ اور اسکول کے اوقات کے دوران نوٹیفکیشنز بند رکھنے کے لیے ‘اسکول موڈ’ جیسے فیچرز متعارف کرائے جائیں گے، جن میں تبدیلی صرف والدین کی اجازت سے ممکن ہوگی۔

​تصفیے کی رقم 10 سال کی مدت کے دوران اقساط میں ریاستوں کی آبادی کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔ تاہم معاہدے میں شرط عائد کی گئی ہے کہ میٹا رقم کا 70 فیصد فوری ادا کرے گی، جبکہ بقیہ 30 فیصد (تقریباً 5.3 ارب ڈالر) کی ادائیگی ٹک ٹاک اور یوٹیوب کی جانب سے بھی کم عمر صارفین کے لیے ایک گھنٹے کی خودکار حد مقرر کرنے اور جرمانہ ادا کرنے سے مشروط ہو گی۔

​

Related posts

سپر سونک طیارے کا نیا تصور، فضائی سفر کا دورانیہ 70 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ

ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی خرابی، پی ٹی اے کا ملک گیر معائنہ

چیٹ جی پی ٹی میں ورچوئل ٹرائی آن اور فیورٹس کے نئے فیچرز متعارف