انسانی حقوق کے اداروں کی تنقید کے باوجود جرمنی نے 23 افغان شہریوں کو کابل واپس بھیج دیا

برلن (پاک ٹوڈے): جرمن حکومتی حکام نے تارکینِ وطن سے متعلق اپنی سخت گیر پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے مزید 23 افغان شہریوں کو کابل ڈی پورٹ کر دیا ہے۔

جرمن وفاقی پولیس کی نگرانی میں لائپزگ ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی اس پرواز کے بعد برلن کی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اب ڈی پورٹیشن کا دائرہ کار صرف مجرموں یا سیکیورٹی خطرہ بننے والے افراد تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ان تمام افراد کو واپس بھیجا جائے گا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اپوزیشن ارکان نے اس قدم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری شدید معاشی بحران کے باعث شہریوں کی زبردستی واپسی ان کے لیے سنگین مسائل کا سبب بنے گی۔

Related posts

افغانستان میں 37 لاکھ بچے شدید وزن میں کمی کے شکار، یونیسف کی رپورٹ

آبنائے ہرمز میں 6 ماہ کے دوران 68 بحری حملے، 20 افراد جاں بحق

دونوں ممالک کا چھوٹے اور درمیانے درجے کی تجارت کو فروغ دینے پر اتفاق