کابل (پاک ٹوڈے): اقوامِ متحدہ کے بچوں کے امدادی فنڈ (یونیسیف) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان بھر میں اس وقت تقریباً 37 لاکھ بچے شدید وزن میں کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔
یونیسیف کے مطابق ان متاثرہ بچوں میں سے تقریباً 10 لاکھ بچے شدید ترین غذائی قلت کی اس حالت میں پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں، جبکہ ان میں سے 83 فیصد بچوں کی عمریں دو سال سے کم ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزن میں شدید کمی اور طبی پیچیدگیوں کی بنا پر اسپتالوں میں داخل کرائے جانے والے بچوں میں سے تقریباً 40 فیصد شیر خوار ہیں جن کی عمریں 6 ماہ سے بھی کم ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان بچوں کو فوری طور پر ضروری غذائی اور طبی امداد فراہم نہ کی گئی تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔