امریکی کارروائیوں میں 153 شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف، پینٹاگون کی نئی رپورٹ جاری

 

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی وزارتِ دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ برس 2025 کے دوران مختلف ممالک میں کی جانے والی امریکی ملٹری آپریشنز کے نتیجے میں 153 عام شہری لقمہ اجل بنے جبکہ 243 شدید زخمی ہوئے۔

امریکی قانون سازوں کو پیش کی گئی سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہریوں کی ہلاکتوں کے تمام تصدیق شدہ واقعات یمن میں ہونے والی تین بڑی کارروائیوں کے دوران پیش آئے۔ یاد رہے کہ سال 2024 کے مقابلے میں یہ اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں، کیونکہ پچھلے سال کی رپورٹ میں امریکی افواج کے ہاتھوں صرف دو شہریوں کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی فلاحی اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں یمن ہی میں پیش آنے والے مزید 15 شکوک و شبہات پر مبنی واقعات کا جائزہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب اس رپورٹ پر یہ تنقید بھی سامنے آ رہی ہے کہ پینٹاگون نے مشرقی بحرالکاہل اور بحیرہ کیریبین میں منشیات کے مشتبہ جہازوں پر کیے گئے حملوں کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا۔ ستمبر 2025 سے شروع کی جانے والی ان کارروائیوں میں 200 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن کے حوالے سے حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں عدالت کے بغیر ہلاکتوں کے زمرے میں آتی ہیں۔

Related posts

شام کے معزول صدر بشار الاسد اور ان کے بھائی کو سزائے موت کا حکم

بحیرہ احمر میں حوثیوں کا تجارتی جہاز پر حملہ، 3 پاکستانیوں سمیت 6 مارے گئے۔

عالمی طلب میں کمی کی پیشگوئی کے باعث انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں