غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی تکالیف کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، برطانیہ

لندن (پاک ٹوڈے): برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں نیتن یاہو حکومت کی پیدا کردہ فلسطینیوں کی تکالیف کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ غزہ اور مغربی کنارے کی موجودہ صورت حال دنیا کے اجتماعی ضمیر کے لیے بدنما داغ ہے۔

لندن میں لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ یہود مخالف جذبات کے خلاف کھڑا ہوگا اور ان عناصر کی بھی مخالفت کرے گا جو اسرائیل کی تباہی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے حالات پر لوگ شدید غم و غصے کا شکار ہیں اور برطانیہ فلسطینیوں کی آواز سن رہا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں حکومت نے اپنے نقطہ نظر کو ازسرنو مرتب کیا ہے، ہم مغربی کنارے میں دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ نے غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد کی نشاندہی اور اسرائیل کے غزہ پر غیر قانونی قبضے کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ رائل ایئرفورس فیئر فورڈ کی تحقیقات ملک کو درپیش خطرات کے حوالے سے یقین دہانی کا ذریعہ ہیں، جبکہ برطانیہ کا مستقبل یورپی یونین کے ساتھ مضبوط شراکت داری میں ہے۔

Related posts

جارجیا میں سالگرہ کی پارٹی پر فائرنگ، 11 نوجوان زخمی، 2 کی حالت تشویشناک

برطانیہ میں امریکی استعمال والے فضائی اڈے کے قریب 5 افراد حملے کی تیاری کے شبہے میں گرفتار

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا متحدہ عرب امارات کا دورہ، صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات