واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی انٹیلی جنس اداروں کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں چھ ماہ سے جاری شدید جنگ نے ایران کو کمزور یا پسپائی پر مجبور کرنے کے بجائے امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور تنازع کو طویل عرصے تک کھینچنے کی صلاحیت پر مزید پرعتماد بنا دیا ہے۔
امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ میں شائع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس سروسز کا ماننا ہے کہ تہران انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں طے شدہ اہداف پر درست انداز میں حملہ کرنے کے اپنے صلاحیتِ کار پر مزید مضبوطی سے قائم ہے اور وہ واشنگٹن کو حکمتِ عملی کے تحت ناکام اور مایوس کرنے کے لیے اس تنازع کو اگلے کئی مہینوں تک برقرار رکھنے کا پورا عزم رکھتی ہے۔
یہ اہم انٹیلی جنس جائزہ اس وقت منظرِ عام پر آیا ہے جب اسی ہفتے خطے میں دوبارہ کشیدگی اور شدید جھڑپیں شروع ہوئی ہیں۔ اخبار نے رپورٹ سے واقف ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگرچہ حالیہ نئی جھڑپیں فی الحال محدود نوعیت کی ہیں، تاہم انٹیلی جنس رپورٹس کا جائزہ لینے والے افراد نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی سخت گیر حکومت اور عسکری قیادت اس جنگ میں مزید بڑے پیمانے پر کشیدگی اور تناؤ بڑھانے کے آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
