ریاض (پاک ٹوڈے): سعودی عرب کے معروف عالمِ دین اور محدث شیخ عبدالعزیز الطریفی کے خلاف سعودی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے سزائے موت کی استدعا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ‘القسط برائے حقوقِ انسانی’ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پراسیکیوشن نے عدالت سے شیخ الطریفی کو سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔ تاہم تنظیم نے واضح کیا ہے کہ مقدمے سے متعلق معلومات انتہائی محدود ہونے کے باعث یہ غیر یقینی ہے کہ آیا پراسیکیوشن اب بھی اسی مطالبے پر قائم ہے یا نہیں اور کیس کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے۔
شیخ عبدالعزیز الطریفی کو اپریل 2016 میں سعودی ٹی وی چینل ‘العربیہ’ اور ریاستی مذہبی پالیسیوں پر آن لائن تنقید کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت ریاض کی الحائر جیل میں شدید قیدِ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ان کی مسلسل گرتی ہوئی صحت کے باعث عالمی انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
