اسلا آباد (پاک ٹو ڈے ): چاند پر انسان کی مستقل سکونت اور خلائی مشنز میں متوقع بے پناہ اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنس دانوں نے چاند کے لیے پہلا ‘ایئر ٹریفک کنٹرول’ نظام قائم کرنے کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل کی خلائی نقل و حمل کو محفوظ بنانے کے لیے باقاعدہ قوانین اور ریاضیاتی فریم ورک کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
امریکی خلائی ادارے ‘ناسا’ (NASA) اور دیگر عالمگیر خلائی ایجنسیوں کی جانب سے چاند پر مستقل قیام کے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ اس سلسلے میں ناسا کا ‘گیٹ وے’ پروجیکٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو چاند کے مدار میں ایک سائنسی و لاجسٹک اڈے کے طور پر کام کرے گا اور زمین، چاند و گہری خلا کے درمیان آمد و رفت کو ممکن بنائے گا۔
اگلے دو عشروں کے دوران چاند پر کارگو، خلائی جہازوں اور انسانی سرگرمیوں میں کثیر اضافہ متوقع ہے۔ اس متوقع ہجوم کے پیش نظر، زمین کی طرز پر چاند کے گرد بھی خلائی ٹریفک کی منصفانہ اور محفوظ نقل و حمل کے لیے نئے ضوابط تیار کیے جا رہے ہیں۔ مجوزہ فریم ورک میں پیشرفتہ ریاضیاتی ماڈلز کی مدد سے خلائی جہازوں کے محفوظ راستوں اور مداروں کا تعین کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا خلائی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔
