اسلام آباد (پاک ٹوڈے) اسلام آباد ہائی کورٹ نے افغان ڈاکٹر عماد الدین کو پاکستان سے بے دخل کرنے کا حکم معطل کرتے ہوئے انہیں یورولوجی میں FCPS-II کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے یہ عبوری حکم ڈاکٹر عماد الدین کی اہلیہ مہر زہور کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر جاری کیا، جو پاکستانی شہری ہیں۔ درخواست میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے 31 جولائی 2026 کے اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر قاسم نواز عباسی نے عدالت کو بتایا کہ پی ایم ڈی سی کا مذکورہ خط ان ڈاکٹروں پر ماضی سے لاگو نہیں کیا جاسکتا جو پہلے ہی اپنی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ مکمل کر رہے ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر عماد الدین کوئی نئے امیدوار نہیں بلکہ قائداعظم میڈیکل کالج اور بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور میں یورولوجی کی FCPS-II ٹریننگ کے پانچویں سال میں ہیں۔ متعلقہ ادارے نے ان کی ٹریننگ کی مدت 28 فروری 2026 سے 27 فروری 2027 تک بڑھا دی تھی۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی کے خط کی بنیاد پر ڈاکٹر عماد الدین کی ٹریننگ روکنے یا ختم کرنے سے خاندان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 14 اور 35 میں دیے گئے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔
عدالت نے ڈاکٹر عماد الدین کے معاملے میں پی ایم ڈی سی کے مذکورہ خط کا اطلاق معطل کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کردیے اور کیس میں مزید کارروائی ملتوی کردی۔
عدالتی حکم کے بعد ڈاکٹر عماد الدین کے لیے پاکستان میں اپنی FCPS-II ٹریننگ مکمل کرنے کی راہ فی الحال ہموار ہوگئی ہے۔
