کابل (پاک ٹوڈے): افغان عبوری حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
عربیہ کے انگریزی شعبے سے گفتگو کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر پاکستان افغانستان کے اندر فوجی کارروائی کرتا ہے تو افغان حکومت اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے اقدامات کرے گی۔
ان کا بیان پاکستان کے فوجی ترجمان کی جانب سے سامنے آنے والے ان الزامات کے ردعمل میں آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کو مسلح افراد کی بھرتی، تربیت اور انہیں اسلحہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو بعد ازاں پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کابل تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور ایسے مسلح گروہوں کی حمایت بھی نہیں کرتا جو دوسرے ممالک کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ مسلح گروہوں سے متعلق بدامنی افغانستان میں طالبان کی حکومت سے قبل بھی موجود تھی۔
افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور تعاون کے لیے مؤثر طریقہ کار تشکیل دینے پر زور دیتا ہے۔