جنیوا (پاک ٹوڈے): اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ ایسے افغان شہریوں کی جبری واپسی فوری طور پر روکی جائے جنہیں افغانستان واپس بھیجے جانے کی صورت میں ظلم، تشدد یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان میں افغان شہریوں کی واپسی کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کی بروقت شناخت کے لیے شفاف اور آسان طریقہ کار وضع کیا جائے، جہاں وہ گرفتاری، حراست یا ملک بدری کے خوف کے بغیر اپنی درخواست پیش کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق ہر فرد کے معاملے کا انفرادی جائزہ لیا جانا چاہیے اور اس عمل کی تکمیل تک ایسے افغان شہریوں کو واپس بھیجنے سے تحفظ فراہم کیا جائے جو ممکنہ خطرات سے دوچار ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے خاص طور پر افغان طلبہ کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے پاکستانی حکام کی جانب سے طبی اور ڈینٹل اداروں کو افغان طلبہ کے اخراج کی ہدایت سے تقریباً 100 طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں 20 سے 40 خواتین شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان خواتین طلبہ کے لیے اس فیصلے کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور طبی تربیت پر پابندیاں عائد ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان کی جانب سے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی اور انسانی ہمدردی کی روایت کو بھی تسلیم کیا، تاہم حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین، بچوں اور دیگر خطرے سے دوچار افغان شہریوں کو ایسے حالات میں واپس نہ بھیجا جائے جہاں انہیں سنگین نقصان کا حقیقی خدشہ ہو۔
ماہرین نے بین الاقوامی قانون کے تحت ’’عدم واپسی‘‘ (Non-refoulement) کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اسے تشدد، ظالمانہ سلوک، جان سے محرومی یا انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کا حقیقی خطرہ ہو۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی وزارت داخلہ نے 28 جون 2026 کو ہدایت جاری کی تھی جس کے تحت 10 جولائی کے بعد درست دستاویزات نہ رکھنے والے افغان شہریوں کو حراست میں لے کر ملک بدر کیا جانا تھا۔
ماہرین کو موصول معلومات کے مطابق 10 جولائی سے 27 اگست 2026 کے دوران تقریباً ایک لاکھ 27 ہزار 344 افغان شہری افغانستان واپس گئے، جن میں کم از کم 14 ہزار 186 افراد کو مبینہ طور پر جبری طور پر واپس بھیجا گیا۔ واپس جانے والوں میں تقریباً 38 ہزار 388 خواتین اور بچے شامل تھے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بتایا کہ انہیں پاکستان میں موجود افغان شہریوں کی متعدد درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں خواتین و لڑکیاں، انسانی حقوق کے کارکن، صحافی، سابق ججز، وکلا، سیکیورٹی اہلکار، مخصوص نسلی و مذہبی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور موجودہ افغان حکام کے مخالف سمجھے جانے والے افراد شامل ہیں۔
ماہرین نے بغیر سرپرست افغان بچوں کی واپسی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بچوں کے لیے ضروری تحفظ اور معاونت کے مناسب نظام کی عدم موجودگی ان کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے 30 جولائی کو بتایا تھا کہ تقریباً 16 ہزار کمزور افغان شہریوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس شناخت کے لیے اختیار کیے گئے معیار اور طریقہ کار کی مزید وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ایسا نظام قائم ہونا چاہیے جس میں خطرے سے دوچار افراد بلاخوف اپنی صورتحال سامنے لا سکیں، ان کے معاملات کا انفرادی جائزہ لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں عارضی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے عالمی برادری، بالخصوص امیر ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کی معاونت کریں، افغانوں کی دوبارہ آبادکاری سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں اور ضرورت مند افراد کے لیے محفوظ راستے فراہم کریں۔
ماہرین کے مطابق وہ اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے رابطے میں ہیں، جبکہ سرحد کے دونوں جانب موجود متعدد افغان شہریوں کے مستقبل کا انحصار آئندہ اقدامات پر ہے۔