اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمز کے گائنی وارڈ میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے المناک واقعے کی تحقیقات میں ہسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور ناکافی حفاظتی انتظامات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
ریسکیو ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق ہسپتال میں فائر سیفٹی کا نظام مکمل طور پر ناکارہ تھا۔
فائر پائپ میں کپلنگز سرے سے غائب تھیں اور فائر پوائنٹس پر پانی کی فراہمی بالکل موجود نہیں تھی۔ حادثے کے وقت ہنگامی انخلا کے تمام راستوں پر تالے لگے ہوئے تھے، جس نے ریسکیو آپریشن کو شدید متاثر کیا۔
آتشزدگی کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، وارڈ بوائز اور طبی عملہ غائب تھا۔
16 بچوں میں سے صرف ایک بچے کو موقع پر موجود واحد لیڈی ڈاکٹر نے بچایا، جبکہ دیگر 15 بچے جاں بحق ہو گئے۔