اسلام آباد (پاک ٹوڈے): عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سخت مطالبے اور دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے وفاقی حکومت نے اپنی معاشی ناہلی کا بوجھ اب ملک کے بنیادی زرعی شعبے پر ڈالنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے زرعی آمدنی کو باقاعدہ انکم ٹیکس کے دائرے میں لانے اور اہداف کے حصول کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر نیا منصوبہ بندی تیار کی ہے۔ زرعی انکم ٹیکس اور گوشواروں کی وصولی کا ہدف پورا کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں کو 30 ستمبر 2026 تک کی حتمی مہلت دی جا رہی ہے۔
زرعی ماہرین اور کسان رہنماؤں نے اس مجوزہ اقدام پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی، ایندھن، بیج اور کھاد کی آسمان چھوتی قیمتوں کے باعث کسان پہلے ہی معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ حکمران طبقات کی جانب سے شاہانہ اخراجات، ٹیکس چوری اور انتظامی بدعنوانی کو روکنے کے بجائے آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی خاطر زرعی معیشت پر نیا بوجھ ڈالنا کسانوں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ایک طرف گندم اور دیگر فصلوں کا کاشتکار مالی بحران سے جوجھ رہا ہے، تو دوسری جانب یہ نیا ٹیکس بوجھ نہ صرف زرعی پیداوار میں مزید کمی لائے گا بلکہ ملک کو سنگین غذائی بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔