بند کمروں کے فیصلہ سازوں کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا، فیصلے عوام کی امنگوں کے مطابق ہوں گے، سہیل آفریدی

کرک (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ صرف پشتونوں کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے، عوامی فیصلے خیبرپختونخوا میں ہی ہوں گے اور فیصلے بند کمروں کے بجائے عوام کی امنگوں کے مطابق میدانوں میں کیے جائیں گے۔

سہیل آفریدی نے شدید گرمی میں 10 سے 12 گھنٹے انتظار کرنے والے شرکا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیسٹ میچ ہے، دو دن بعد اسے ٹی ٹوئنٹی میچ بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ رات کرک میں گزاریں گے اور کرک کے عوام اگلے روز لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ان کے قائد عمران خان نے امریکا کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا جبکہ انہوں نے بند کمروں میں فیصلے کرنے والوں کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا ہے۔ ان کے مطابق وہ ہر ایسی پالیسی کو مسترد کریں گے جو عوام کے حق میں نہیں ہوگی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ جنوبی خطے میں بار بار سیکیورٹی آپریشنز کیے جاتے ہیں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری نقصان بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 22 سال سے جاری پالیسیوں کے نتیجے میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ان پالیسیوں کو مسترد کیا ہے جو ان کے مفاد میں نہیں تھیں۔ ان کے بقول امن انہوں نے عمران خان کے ساڑھے 3 سالہ دور حکومت میں دیکھا، جبکہ رجیم چینج کے بعد جب دوبارہ شدت پسندی میں اضافہ ہوا تو ان کی جماعت اس حوالے سے آواز اٹھاتی رہی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے پاس بندوقیں نہیں بلکہ عوامی طاقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں صرف عمران خان کی قیادت کا راج ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام اپنے فیصلے خود کریں گے۔

سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی اور سیاسی کردار کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم چاہتی ہے کہ عمران خان باہر آکر ملک کی قیادت سنبھالیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان مشکلات کے باوجود نہیں جھکے، ان کی اہلیہ اور بہنوں کو بھی جیل میں ڈالا گیا لیکن ان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

انہوں نے شرکا سے کہا کہ وہ باہر نکلیں اور یہ پیغام دیں کہ انہیں صرف عمران خان کی قیادت قبول ہے۔ سہیل آفریدی نے عمران خان کو قومی یکجہتی اور نوجوانوں کے مستقبل کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق عمران خان ہی ملک کی عزت اور وقار بحال کرسکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس وقت مزدور اور کسان مشکلات کا شکار ہیں جبکہ نوجوان ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ انہوں نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی قیادت میں آگے بڑھیں گے اور حقیقی آزادی کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Related posts

پشاور میں سیکیورٹی الرٹ، اضافی نفری طلب، محسن نقوی کو اہم بریفنگ

صدر اور وزیراعظم اگر گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس بھرپور آئینی کردار ادا کرے گا

ڈیانا سخت سکیورٹی میں آذربائیجان روانہ، 3 پولیس افسران بھی ہمراہ