اسلام الدین ساجد کی رپورٹ
پاکستان میں 1990 کی دہائی سے جاری پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے نتیجے میں اس موذی مرض کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ملک تاحال پولیو وائرس پر مکمل قابو نہیں پا سکا۔ ماہرین کے مطابق، سکیورٹی کے مسائل، ویکسین سے متعلق غلط فہمیاں، بچوں تک رسائی میں مشکلات اور حفاظتی ٹیکوں کے نظام میں خامیاں اس ناکامی کی اہم وجوہات ہیں۔
پاکستان کے سرکاری پولیو پروگرام کے مطابق، 2025 میں ملک بھر میں پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 24 اکتوبر 2026 تک رواں سال کے کیسز کی تعداد سات ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پولیو کے کیسز میں تقریباً 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ آخری دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے۔ دونوں ممالک میں وائرس کی مسلسل گردش ایک دوسرے کے لیے بھی خطرہ بنی ہوئی ہے۔
1992 سے 2026 تک: کیسز میں نمایاں کمی
1990 کی دہائی کے آغاز میں پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے پولیو سے متاثر ہوتے تھے۔ تاریخی اعدادوشمار کے مطابق، 1992 میں ملک میں تقریباً ایک ہزار کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 1993 میں یہ تعداد بڑھ کر 1,803 تک پہنچ گئی۔ 1994 میں کیسز کی تعداد کم ہو کر تقریباً 527 رہ گئی۔
پاکستان نے 1994 میں ملک گیر پولیو ویکسینیشن مہم شروع کی، جس کے تحت پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے قومی سطح پر اقدامات کیے گئے۔
اس مہم کے نتیجے میں کئی برسوں کے دوران کیسز میں نمایاں کمی آئی، لیکن وائرس کا مکمل خاتمہ نہ ہو سکا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، 2015 میں 54، 2016 میں 20 اور 2017 میں صرف آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے۔ تاہم، 2019 میں کیسز کی تعداد دوبارہ بڑھ کر 147 ہو گئی، جبکہ 2020 میں 84 کیسز سامنے آئے۔
2021 میں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا، لیکن بعد کے برسوں میں وائرس دوبارہ پھیلنے لگا۔ پاکستان میں 2022 میں 20، 2023 میں چھ، 2024 میں 74 اور 2025 میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے۔ 2026 میں سات کیسز رپورٹ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیش رفت کے باوجود وائرس کی منتقلی مکمل طور پر نہیں رک سکی۔
پاکستان پولیو کا خاتمہ کیوں نہیں کر سکا؟
سکیورٹی کے مسائل اور ویکسینیشن ٹیموں پر حملے
پاکستان کے بعض علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع، سابقہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں سکیورٹی کی خراب صورت حال نے پولیو ٹیموں کے لیے بچوں تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔
پولیو پروگرام خیبر پختونخوا کے سابق سربراہ ڈاکٹر مصطفیٰ کے مطابق، وائرس کے خاتمے کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں، جن میں سکیورٹی کے مسائل بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے مسائل کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ بچوں کو دی جانے والی ویکسین کی کولڈ چین برقرار ہے یا نہیں، اور اس کی افادیت، قوتِ مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت اور معیار متاثر تو نہیں ہوا۔ اگر ویکسین کا معیار برقرار نہ رہے تو اس کی مؤثریت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق، گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 200 سے زائد پولیو ورکرز اور ان کی سکیورٹی پر مامور اہلکار جان سے جا چکے ہیں، جبکہ گزشتہ 13 سے 14 برسوں کے دوران تقریباً 100 پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 61 پولیس اہلکار شامل ہیں۔
ویکسین کے بارے میں غلط فہمیاں اور عدم اعتماد
بعض علاقوں میں والدین پولیو ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں اور سازشی نظریات کے باعث اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر مصطفیٰ کے مطابق، پولیو ویکسین کے خلاف غلط پروپیگنڈا بھی ایک بڑی وجہ ہے جس کے باعث وائرس اب تک پاکستان سے ختم نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے آگاہی مہم چلانا بہت ضروری ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، ملک گیر مہمات میں مجموعی طور پر اچھی کوریج رپورٹ ہونے کے باوجود بعض علاقوں میں بڑی تعداد میں بچے ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اس کی وجوہات میں دور دراز علاقوں تک رسائی میں مشکلات، خاندانوں کی نقل مکانی، بار بار گھر تبدیل کرنا، والدین کا انکار اور مہمات کے انتظامی مسائل شامل ہیں۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد اکرم کے مطابق، پولیو کے خاتمے کے لیے بار بار خصوصی مہمات چلانے کے ساتھ بچوں کی معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر اکرم کا کہنا ہے کہ جہاں بنیادی صحت کی سہولتیں کمزور ہوں، وہاں بچوں کے بار بار ویکسین سے محروم رہ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے معمول کی حفاظتی ویکسینیشن، بہتر نگرانی اور بیماری کی فوری تشخیص کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ نے بھی ڈاکٹر اکرم کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق، اگر اس نظام کی کوریج 100 فیصد تک پہنچ جائے تو پولیو سمیت بچپن کی دیگر بیماریوں کے خاتمے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی عدم دستیابی اور نکاسی آب کی ناقص سہولتیں بھی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وائرس عموماً آلودہ پانی یا خوراک اور متاثرہ فضلے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ آنتوں سے اعصابی نظام تک پہنچنے کے بعد یہ مستقل معذوری اور فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج نہیں، تاہم ویکسینیشن کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
افغانستان کے ساتھ سرحد پار نقل و حرکت
پاکستان اور افغانستان کے درمیان لوگوں کی مسلسل آمدورفت بھی وائرس کے خاتمے کی کوششوں کو پیچیدہ بناتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت دونوں ممالک کو پولیو کے تناظر میں ایک مشترکہ وبائی خطہ قرار دیتا ہے، کیونکہ ایک ملک میں وائرس کی موجودگی دوسرے ملک میں اس کی دوبارہ منتقلی کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔
اگرچہ حکومت نے سرحدی گزرگاہوں پر پولیو ٹیمیں کافی عرصے سے تعینات کر رکھی ہیں تاکہ آنے جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا سکیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک دونوں ممالک میں مؤثر مہمات کے ذریعے ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی نہیں بنائی جاتی، وائرس کا مکمل خاتمہ مشکل رہے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے 24 اکتوبر 2026 کو عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اس موذی مرض کے مکمل خاتمے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتیں بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے پولیو کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہیں۔
وزیراعظم نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں چار لاکھ سے زیادہ فرنٹ لائن ورکرز اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں 60 فیصد خواتین ہیں۔ انہوں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانیں قربان کرنے والے کارکنوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بچے تک ویکسین پہنچانا حکومت اور قوم کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق، والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، مقامی برادریوں، ذرائع ابلاغ اور عالمی شراکت داروں کا تعاون پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔
کیا پاکستان پولیو سے پاک ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر اکرم کا کہنا ہے کہ پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی پاکستان کی انسدادِ پولیو مہم کی ایک اہم کامیابی ہے، لیکن چند کیسز کا باقی رہنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وائرس اب تک ملک میں موجود ہے۔
ان کے مطابق، حتمی کامیابی کے لیے ویکسینیشن مہمات کا تسلسل، ہر بچے تک رسائی، پولیو ورکرز کا تحفظ، معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے نظام میں بہتری اور ویکسین کے بارے میں عوامی اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔
