ویانا (پاک ٹوڈے): تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے سال 2026 کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ نمایاں طور پر کم کردیا ہے۔ تنظیم نے یہ اندازہ یومیہ 14 لاکھ بیرل سے گھٹا کر 4 لاکھ بیرل کردیا ہے۔
اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیص کے مطابق تیل کی عالمی طلب میں اضافے کی رفتار توقعات سے کم رہنے کے باعث تخمینے پر نظرثانی کی گئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ رواں سال طلب میں اضافے کا جو حصہ مؤخر ہوگا، اس کے 2027 میں سامنے آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق موجودہ سال میں تیل کی متوقع اضافی طلب کا کچھ حصہ آئندہ سال منتقل ہوسکتا ہے، جس سے 2027 میں عالمی سطح پر تیل کی کھپت میں اضافے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی طلب کے تخمینے توانائی کی قیمتوں، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی آمدنی اور پیداوار سے متعلق فیصلوں کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ طلب میں اضافے کی رفتار سست رہنے سے قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم قیمتوں کا انحصار رسد، جغرافیائی سیاسی حالات اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں پر بھی ہوتا ہے۔
اوپیک کی نئی پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات عالمی توانائی منڈی کی توجہ کا مرکز ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں تیل کی عالمی ترسیل اور قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔
تنظیم کی جانب سے 2027 میں طلب بڑھنے کی توقع ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ سال کی سست روی کو مستقل رجحان نہیں سمجھا جا رہا، تاہم آئندہ سال طلب میں اضافے کی رفتار عالمی معاشی حالات اور توانائی کی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی متاثر ہوگی۔
