اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، تاہم ایمرجنسی لگانا وفاق کا شوق نہیں، اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو اس کی وجہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا رویہ ہوگا۔
طارق فضل چوہدری نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے وفاق سے عدم تعاون کے اعلان کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت وزیراعلیٰ کو حاصل اختیارات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم وہ صوبے کو وفاق سے الگ کرکے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر رویے میں تبدیلی نہ آئی تو پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری بھی وزیراعلیٰ پر عائد ہوگی۔
وفاقی وزیر کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں صوبائی حکومت کی عملداری نہیں ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کو قومی سلامتی سے متعلق معاملات سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کو خود بھی اقدامات کرنے چاہییں، لیکن وفاق کارروائی کا خواہاں ہے جبکہ صوبائی حکومت اس سے انکاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے اور انہیں بند نہیں کیا جائے گا۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم مذاکرات کے حوالے سے حکومت کی پالیسی واضح کر چکے ہیں، اس لیے سڑکوں پر جاری سیاسی احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
