اسلام آباد (پاک ٹوڈے): حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 11 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات انسداد شدت پسندی کے اقدامات سے متعلق اختلافات کے باعث بے نتیجہ ختم ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے انسداد شدت پسندی سے متعلق بعض مجوزہ اقدامات پر مکمل یقین دہانی نہ کرائے جانے کے باعث فریقین کے درمیان اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
مجوزہ معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا حکومت کو تحریری معاہدے پر دستخط کرکے 72 گھنٹوں کے اندر اس پر عملدرآمد کا منصوبہ پیش کرنا تھا۔ اس منصوبے میں سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پولیس ایکٹ 2026 کا دوبارہ جائزہ لینے، صوبے میں مسلح گروہوں کو کارروائی یا محفوظ ٹھکانے قائم کرنے سے روکنے اور ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے سمیت دیگر مسلح گروہوں کی واضح مذمت سے متعلق نکات شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں افغان شہریوں سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، خیبرپختونخوا میں افغان کیمپوں کے خاتمے اور واپسی کے عمل میں تعاون، عبوری افغان حکومت سے رابطوں سے گریز، انسداد شدت پسندی اور پولیس کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی اور صوبائی حکومت کی جانب سے انسداد شدت پسندی اقدامات کی زیادہ ذمہ داری قبول کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔
مجوزہ نکات میں مسلح گروہوں سے نمٹنے کے لیے فوج اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے، سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع سے متعلق انسداد شدت پسندی کے فیصلوں اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں جاری سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر انسداد شدت پسندی کی پالیسی کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جائے اور صوبائی حکومت اس معاملے میں اپنے آئینی کردار اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کی واضح یقین دہانی کرائے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہفتے کی شام شروع ہوا تھا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد رات گئے ڈیڈ لاک پر ختم ہوا۔ فریقین کے درمیان خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال، عمران خان سے ملاقات اور 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سمیت دیگر معاملات پر بھی اختلافات موجود رہے۔
