پشاور (پاک ٹوڈے): تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا کیا اور بات چیت کو ناکام بنایا، اب حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ملک کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومت کو مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، تاہم حکومتی رویے سے مایوسی ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس دہشت گردی اور معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ضد اور انا سے ملک نہیں چلتے، حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے سے حالات مزید خراب ہوں گے، جبکہ ملک پہلے ہی قرضوں میں ڈوبا ہوا اور عوام مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے مذاکرات میں شرکت کرکے اپنا مثبت کردار ادا کیا، لیکن حکومت نے جان بوجھ کر بات چیت ناکام بنائی اور اب حالات خراب ہونے کی صورت میں ذمہ داری بھی حکومت پر ہوگی۔
شوکت یوسفزئی کے مطابق پہلے حکومت کہتی تھی کہ پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرتی، لیکن جب تحریک انصاف مذاکرات کی میز پر آئی تو حکومت پیچھے ہٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں، حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینی چاہیے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنانی چاہیے۔
سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی خیبر پختونخوا نے کہا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ آج سے شروع ہوگا اور اپوزیشن کے مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا۔
خیال رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت مذاکرات کے دو ادوار ہوئے تھے، جو گزشتہ روز کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے۔
