کراچی (پاک ٹوڈے): امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی میں مہنگائی اور بے روزگاری نے عام لوگوں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ تاجر برادری بھی مہنگائی سے شدید متاثر ہے۔
5 اسٹار چورنگی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی، ٹیکسز اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات اشیائے ضروریہ سمیت ہر چیز پر پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نے ہی آئی پی پیز کے خلاف آواز اٹھائی اور عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایران اور امریکا کی جنگ کو جواز بنا کر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم لیوی اور ٹیکس میں اضافہ کیا گیا، جبکہ اب بھی 80 روپے فی لیٹر لیوی کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ 700 ارب روپے ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ ان کے بقول آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی ہدایت نہیں کی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمران ایک دوسرے کا تحفظ کرتے ہیں جبکہ عوام مہنگائی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کی جائے تاکہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف مل سکے۔
احتجاجی تحریک کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی نے اپنی احتجاجی تحریک ختم نہیں کی بلکہ اسے موخر کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی واپسی پر حکومت سے دوبارہ دوٹوک بات کی جائے گی۔
سندھ کے تعلیمی نظام پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے ایک اسکول میں 23 بچے اور 50 اساتذہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
