کوئٹہ (پاک ٹوڈے): بلوچستان ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے شہریوں کے شناختی کارڈز کو یکطرفہ طور پر ڈیجیٹل طریقے سے بلاک کرنے کے خلاف دائر آئینی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نادرا کے اقدام کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا۔
عدالت نے مہر علی و دیگر کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے نادرا کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کے بلاک شدہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز اور متعلقہ ریکارڈ کو فوری طور پر نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس میں بحال کیا جائے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل جمیل رمضان دہوار ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نادرا نے شوکاز نوٹس اور مؤثر سماعت کا موقع دیے بغیر شہریوں کے شناختی کارڈز بلاک کیے، جس سے انہیں بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔
درخواست گزاروں کے وکیل کے مطابق نادرا کا یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A اور 14 سے متصادم ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کیے گئے آئینی نکات سے اتفاق کرتے ہوئے شناختی کارڈز کی بحالی کا حکم جاری کردیا۔
